تہران: عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی منگل کو ایران کا دورہ کریں گے جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق اس دورے کا اعلان ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کیا اور اسے دونوں ملکوں کے رابطوں کے تسلسل کے طور پر پیش کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدورفت موجودہ بات چیت کا مرکزی موضوع ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان اس بحری راستے کے کھلے رہنے، بندش اور انتظامی اختیار کے سوال پر اختلاف موجود ہے، اس لیے عمان کی سفارتی سرگرمی علاقائی رابطہ کاری کے تناظر میں اہم سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم دستیاب خبر میں کسی حتمی معاہدے، مشترکہ مسودے یا مذاکرات کے طے شدہ نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایکسپریس کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پیر کو تہران کا دورہ کریں گے۔ رپورٹ اس دورے کو ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے بعد ہونے والی پیش رفت سے جوڑتی ہے۔ یہاں دورے کے مقصد کو اسی رپورٹ کی نسبت سے بیان کیا جا رہا ہے؛ کسی نئی سہ فریقی نشست یا باقاعدہ ثالثی معاہدے کی تصدیق خبر میں موجود نہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے حوالے سے بتایا گیا کہ بغداد کی درخواستوں کے بعد ایران نے کئی عراقی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔ یہ اطلاع اس بحری راستے پر عملی فیصلوں اور سفارتی درخواستوں کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتی ہے، مگر رپورٹ میں جہازوں کی مکمل تعداد، مال برداری کی تفصیل یا آئندہ کے مستقل ضابطے بیان نہیں کیے گئے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور بحری تجارت کے لیے اہم گزرگاہ ہے، اسی لیے وہاں آمدورفت سے متعلق ہر سرکاری قدم وسیع توجہ حاصل کرتا ہے۔ موجودہ خبر کا قابلِ تصدیق نکتہ عمانی وزیر خارجہ کے اعلان کردہ تہران دورے، مذاکرات کے موضوع اور عراقی ٹینکروں سے متعلق ارنا کی اطلاع تک محدود ہے۔ دورے کے بعد اگر مشترکہ بیان یا ضابطۂ کار سامنے آتا ہے تو وہ الگ اور مادی پیش رفت ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




