جمہوریہ کانگو کی حکومت اور روانڈا کی حمایت یافتہ ایم 23 باغی گروپ نے امن مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ایک روڈمیپ پر اتفاق کیا ہے۔ دی نیشن کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں پانچ روزہ بات چیت کے بعد جاری مشترکہ بیان میں فریقین نے جامع امن اور تنازع کے حل کی جانب مذاکرات جاری رکھنے اور جنگ بندی کی نگرانی کا طریقۂ کار قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
رپورٹ کے مطابق روڈمیپ 2025 میں طے پانے والے امریکی ثالثی کے امن فریم ورک کے تحت بات چیت کے لیے وقت اور مرحلہ وار اقدامات بیان کرتا ہے۔ اس پچھلے معاہدے کے باوجود مشرقی کانگو میں لڑائی جاری رہی، جہاں کئی دہائیوں سے تنازع مقامی آبادی، نقل مکانی اور علاقائی سلامتی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ تازہ روڈمیپ کو اسی نامکمل عمل کو منظم انداز میں دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اہم اختلافات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ دی نیشن کی رپورٹ میں ایم 23 پر پابندیوں، زیرِ حراست افراد کی رہائی اور سیاسی اصلاحات کے وقت سے متعلق اختلافات کا ذکر ہے۔ اس لیے روڈمیپ کو مکمل امن معاہدہ یا تنازع کے خاتمے کا اعلان نہیں سمجھا جا سکتا۔ یہ آئندہ مذاکرات، ذمہ داریوں کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کے جائزے کے لیے ایک عملی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت میں ایم 23، کانگو حکومت، قطر، امریکا، جمہوریہ ٹوگو، افریقی یونین کمیشن اور میزبان سوئٹزرلینڈ کے نمائندے شریک ہوئے۔ مشترکہ بیان کے مطابق فریقین نے 2025 کے دوحہ فریم ورک کے تحت وعدوں پر عمل درآمد کی پیش رفت اور مشکلات کا جائزہ لینے کے لیے ایک طریقۂ کار قائم کرنے پر اتفاق کیا۔
روڈمیپ میں مرحلہ وار اقدامات اور اوقات کے ساتھ لچک دکھانے کا وعدہ بھی شامل ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے سیکریٹریٹ قائم کر دیا گیا ہے اور پہلی تصدیقی مشن پیر کو جنوبی کیوو کے لڑائی سے متاثرہ علاقے منیمبوے میں متوقع ہے۔ اس مشن اور آئندہ مذاکرات کی کامیابی ہی طے کرے گی کہ تحریری روڈمیپ زمینی سطح پر تشدد کم کر پاتا ہے یا نہیں؛ فی الحال رپورٹ صرف متفقہ عمل، باقی اختلافات اور نگرانی کے ابتدائی انتظام کی تصدیق کرتی ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




