مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی ساخت اور ان کے دفاع سے متعلق نئی بحث سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ نے برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں نے خلیجی ممالک میں موجود بعض بڑے امریکی فوجی اڈوں کی کمزوری کو نمایاں کیا۔ اس خبر میں حملوں، نقصان اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق تمام نکات متعلقہ رپورٹ کی نسبت سے بیان کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا تقریباً چار دہائیوں سے خلیجی خطے میں بڑے فوجی اڈوں کے نیٹ ورک کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ حالیہ لڑائی کے دوران ایران نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز سے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ فنانشل ٹائمز کی تشریح کے مطابق ایرانی ساحل کے قریب واقع بڑے اڈوں کے لیے جدید میزائل اور ڈرون خطرات نے دفاعی منصوبہ بندی کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ایکسپریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دباؤ کے دوران امریکا نے بعض افواج اور جنگی طیاروں کو اسرائیل، اردن اور نسبتاً دور مقامات پر منتقل کیا، جبکہ کچھ امریکی طیاروں اور ڈرونز نے یورپی اڈوں سے بھی کارروائیاں کیں۔ اب امریکی پالیسی سازوں کے سامنے یہ سوال ہے کہ متاثرہ تنصیبات کی تعمیرِ نو پر بڑی رقم خرچ کی جائے یا پورے علاقائی فوجی ڈھانچے اور تعیناتی کے طریقے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

رپورٹ نے واشنگٹن کے امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کا اپریل کا ایک اندازہ بھی نقل کیا، جس کے مطابق سات مشرقِ وسطیٰ ممالک میں گیارہ امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت پر تقریباً پانچ ارب ڈالر درکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم خبر کے مطابق پینٹاگون نے جنگ کی مجموعی لاگت کے اپنے تخمینے میں اڈوں کی تعمیرِ نو کے اخراجات شامل نہیں کیے۔ یہ اعداد ایک تھنک ٹینک کے اندازے کے طور پر نقل کیے گئے ہیں، سرکاری حتمی لاگت کے طور پر نہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق امریکی حکمت عملی میں تبدیلی کے جواب میں ایران بھی اپنی میزائل صلاحیت اور ترجیحات بدل سکتا ہے۔ ایک سابق اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس عہدیدار کی رائے بھی رپورٹ میں شامل ہے کہ ایران درمیانے فاصلے کے میزائلوں پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے۔ رپورٹ نے یہ بھی نشان زد کیا کہ بعض خلیجی ممالک سلامتی کے لیے امریکا کے ساتھ تعلق برقرار رکھتے ہوئے دوسری عالمی طاقتوں سے روابط بڑھا رہے ہیں۔ فی الحال یہ مباحث پالیسی اور دفاعی منصوبہ بندی کے سوالات ہیں؛ کسی نئے امریکی فیصلے یا حتمی تعمیرِ نو منصوبے کا اعلان رپورٹ میں موجود نہیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک