شمال مغربی عرب کے قریہ نخلستان میں آثارِ قدیمہ کی ایک تحقیق نے تقریباً 3200 برس پرانی ایسی برتن سازی کے شواہد پیش کیے ہیں جو اس دور کی مقامی ہنرمندی اور تجارتی روابط کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ ایکسپریس اردو کی 23 اگست کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کو دو رنگوں سے مزین مٹی کے برتنوں کے آثار ملے ہیں اور تحقیق جرنل پی ایل او ایس ون میں شائع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان برتنوں پر سیاہ اور سرخ رنگ کے جیومیٹریائی نقش، جانوروں کی علامتی تصاویر اور انسانی اشکال بنائی جاتی تھیں۔ محققین کے نزدیک یہ سامان صرف روزمرہ گھریلو استعمال تک محدود نہیں تھا؛ اس کی مخصوص بناوٹ اور آرائش ایک پہچان رکھتی تھی اور ممکن ہے کہ اسے دوسرے علاقوں میں فروخت یا منتقل بھی کیا جاتا رہا ہو۔ تاہم دستیاب رپورٹ کسی مخصوص تجارتی راستے، خریدار آبادی یا برآمدی مقدار کی حتمی نشاندہی نہیں کرتی، اس لیے ان نکات کو تحقیقی امکان ہی کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈاکٹر مارتا لوسیانی کے مطابق نتائج اس تصور کو چیلنج کرتے ہیں کہ کانسی کے دور کی صحرائی نخلستانی برادریاں لازماً وسائل اور فنی صلاحیت سے محروم تھیں۔ ان کے بقول قریہ کے باشندوں نے مٹی، پانی اور ایندھن کی محدود دستیابی کے باوجود ایک الگ سیرامک روایت قائم کی، جس میں مقامی حالات کے مطابق تخلیقی طریقے اپنائے گئے۔

یہ دریافت قدیم عرب معاشروں کو صرف نقل و حرکت کرنے والے گروہوں کے بجائے پیداوار، ہنر اور تبادلے سے وابستہ آبادیوں کے طور پر دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔ دو رنگی آرائش سے ظاہر ہونے والی مستقل بصری پہچان ماہرین کو یہ جانچنے کا موقع دیتی ہے کہ دستکار اپنی مصنوعات کو کس طرح الگ رکھتے اور مختلف آبادیوں کے درمیان ثقافتی رابطے کیسے قائم ہوتے تھے۔

آثارِ قدیمہ میں کسی برتن کے نمونے سے پورے معاشرے کی معیشت کا حتمی نقشہ تیار نہیں کیا جا سکتا۔ اس رپورٹ میں دریافت کی جگہ، برتنوں کی نمایاں خصوصیات، محققہ کی تشریح اور شائع شدہ تحقیق کا ذکر موجود ہے، مگر آبادی کے حجم، پیداوار کی سالانہ مقدار یا برتنوں کے قطعی مقاماتِ فروخت کے اعداد نہیں دیے گئے۔ اسی وجہ سے خبر کو دستیاب تحقیقی شواہد اور مصنفین کی محتاط تشریح تک محدود رکھا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک