قاہرہ: مصر کے قدیم تھیبن نیکروپولس کے ایک تدفینی چیمبر میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے انسانی باقیات کے قریب حنوط شدہ کتا دریافت کیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق کتے کی باقیات ایک مرد اور عورت کی باقیات کے اوپر موجود تھیں، جس نے تدفین کی ترتیب اور انسان و جانور کے تعلق سے متعلق نئے سوال پیدا کیے ہیں۔

تھیبن نیکروپولس دریائے نیل کے دوسری جانب قدیم شہر لکسر کے مقابل واقع ایک وسیع قبرستان ہے۔ اس علاقے میں سیکڑوں مقبرے اور تدفینی مقامات ہیں اور اسے مختلف ادوار میں کئی صدیوں تک استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق زیرِ تحقیق قبرستان میں 700 سال سے زیادہ عرصے تک دوبارہ تدفین ہوتی رہی، اس لیے ایک ہی جگہ پر مختلف زمانوں کی باقیات ملنا غیر معمولی نہیں۔

محدود جگہ کے باعث بعد کی نسلوں نے پہلے سے موجود قبروں میں مزید تدفین کی، جس سے بعض مقامات پر انسانی باقیات ایک دوسرے کے اوپر پائی گئیں۔ تاہم انسانوں کے اتنے قریب حنوط شدہ کتے کی موجودگی نے محققین کی خاص توجہ حاصل کی۔ یہ ترتیب اس امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جانور کا اس مرد اور عورت سے بامعنی تعلق تھا، یا اسے مرنے والوں کے بعد از مرگ سفر کا رہنما سمجھا گیا۔

تحقیق کے پہلے مصنف اور اسپین کی یونیورسٹی آف لا لگونا سے وابستہ ڈاکٹر جیرڈ کاربالو پیریز کے مطابق انسانی تدفین کے بالکل قریب جانور رکھنا خصوصی تعلق کی علامت ہو سکتا ہے۔ یہ ایک علمی تشریح ہے، حتمی ثابت شدہ نتیجہ نہیں؛ دستیاب شواہد سے کتے کی ملکیت، اس کی موت کا وقت یا تدفین کرنے والوں کا درست مقصد قطعی طور پر معلوم نہیں ہوتا۔

دریافت قدیم مصری معاشرے میں جانوروں کے کردار، تدفینی رسومات اور ایک قبرستان کے طویل استعمال کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مزید عمر بندی، باقیات کے سائنسی تجزیے اور مقام کے مکمل سیاق سے مختلف تدفینوں کا باہمی تعلق واضح ہو سکتا ہے۔ موجودہ خبر کو دریافت اور محققین کی محتاط تشریح تک محدود رکھا گیا ہے۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک