تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے امکان پر ردعمل دیتے ہوئے اسے پہلے سے جاری دباؤ کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا ہے۔ ایکسپریس اردو کی 24 اگست کی رپورٹ کے مطابق نئی پابندیوں کا پیکیج پیر کو سامنے آنے کی توقع ظاہر کی گئی، لیکن خبر کی اشاعت تک اس کے مکمل نکات یا حتمی اعلان کی تفصیل موجود نہیں تھی۔

عباس عراقچی نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکا کی جانب سے اختیار کیا جانے والا دباؤ اور جسے انہوں نے دھونس قرار دیا، سابق امریکی حکومتوں کی پالیسی سے مختلف نہیں۔ یہ ایران کے وزیر خارجہ کا سیاسی مؤقف ہے؛ اسے کسی غیر جانب دار ادارے کی تصدیق شدہ قانونی یا اقتصادی نتیجے کے طور پر نہیں بلکہ تہران کے سرکاری ردعمل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ متوقع پابندیاں کسی نئی حکمت عملی کے بجائے اسی پرانے طریقۂ کار کو دہراتی ہیں جس کے ذریعے واشنگٹن ماضی میں بھی ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھاتا رہا ہے۔ ایکسپریس کی رپورٹ میں پابندیوں کی ممکنہ فہرست، ہدف بننے والے اداروں یا افراد، نافذ ہونے کی تاریخ اور استثنا کی تفصیل نہیں دی گئی۔ لہٰذا ان امور پر کوئی اندازہ یا اضافی دعویٰ شامل نہیں کیا جا رہا۔

نئی امریکی پابندیوں کا امکان ایسے وقت زیر بحث ہے جب ایران اور امریکا کے تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں اور آبنائے ہرمز سمیت علاقائی معاملات پر سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاہم کسی متوقع اقدام کے سیاسی اثرات اور کسی جاری شدہ پابندی کے قانونی اثرات الگ معاملات ہیں۔ موجودہ مرحلے پر خبر ایران کے ردعمل اور ممکنہ اعلان تک محدود ہے؛ اصل اثرات کا جائزہ پابندیوں کے حتمی متن سامنے آنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

عراقچی کے بیان سے تہران کی یہ پوزیشن واضح ہوتی ہے کہ وہ مزید اقتصادی اقدامات کو دباؤ بڑھانے کی کوشش سمجھتا ہے۔ امریکی حکومت کا تفصیلی مؤقف یا پیکیج کی باضابطہ دستاویز اس ایکسپریس رپورٹ میں شامل نہیں، اس لیے دونوں جانب کے دعووں میں فرق برقرار رکھا گیا ہے۔ اگر واشنگٹن حتمی پابندیاں جاری کرتا ہے یا ایران کوئی عملی جوابی قدم اٹھاتا ہے تو وہ موجودہ بیان سے الگ قابلِ رپورٹ پیش رفت ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک