لندن: اوپیک پلس کے سات اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک اتوار کو ہونے والے آن لائن اجلاس میں دسمبر کے خام تیل پیداواری اہداف موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی طرف مائل ہیں۔ رائٹرز سے بات کرنے والے تین ذرائع نے کہا کہ فی الحال چوتھی سہ ماہی میں نئی تبدیلی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، تاہم اجلاس سے پہلے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا اور پالیسی میں تبدیلی ممکن ہے۔

خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے ایران جنگ کے باعث کئی ماہ کی رکاوٹوں کے بعد اپنی برآمدات میں اضافہ کیا ہے، لیکن متعدد ملک اب بھی مقررہ کوٹے سے کم پیداوار دے رہے ہیں۔ اوپیک پلس نے ستمبر میں 2023 میں طے کی گئی 16 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ کی ایک رضاکارانہ کٹوتی کو مرحلہ وار واپس لینے کا عمل مکمل کیا تھا۔ اس کے باوجود زیادہ تر ارکان کے لیے تقریباً 20 لاکھ بیرل یومیہ کی ایک الگ کٹوتی 2026 کے اختتام تک برقرار ہے۔

ذرائع کے مطابق گروپ کی توجہ اب 2027 کے پیداواری کوٹوں اور نئی بنیادی پیداواری سطحوں پر مرکوز ہے۔ مستقبل کے کوٹے طے کرنے سے پہلے رکن ممالک کی حقیقی پیداواری صلاحیت کا جائزہ مکمل ہونا ضروری ہے۔ یہ بنیادی سطحیں اس بات پر اثر انداز ہوں گی کہ ہر ملک مستقبل میں کتنی پیداوار کر سکے گا اور باقی رضاکارانہ کٹوتیوں کو کس رفتار سے واپس لیا جا سکتا ہے۔

اوپیک پلس کی پالیسی عالمی تیل منڈی کے لیے اہم ہے کیونکہ گروپ میں دنیا کے کئی بڑے خام تیل برآمد کنندگان شامل ہیں۔ حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی رکاوٹوں اور روسی توانائی کی فراہمی سے متعلق تبدیلیوں نے قیمتوں کو غیر معمولی طور پر حساس رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں پیداوار کا ہدف برقرار رکھنے سے گروپ کو طلب، رسد اور جغرافیائی سیاسی خطرات کا مزید جائزہ لینے کا وقت مل سکتا ہے۔

ذرائع کی معلومات کو اوپیک پلس کے حتمی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ رسمی فیصلہ اتوار کے اجلاس میں یا اس کے بعد جاری بیان میں سامنے آئے گا۔ اگر مارکیٹ حالات، برآمدی بہاؤ یا رکن ممالک کی پوزیشن میں تبدیلی آتی ہے تو اہداف میں ردوبدل بھی ممکن ہے۔ فی الحال دستیاب معلومات یہی ظاہر کرتی ہیں کہ اہم ممالک دسمبر کے لیے موجودہ پیداواری پالیسی برقرار رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔