اسلام آباد: سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اپنے زیر نگرانی اداروں کے لیے منظور شدہ آڈیٹرز کے فریم ورک میں تبدیلی کرتے ہوئے آڈٹ فرموں کی اہلیت سے متعلق معیار پر نظرثانی کی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیشن نے سرکلر نمبر 24 آف 2026 جاری کیا ہے، جو اس سے قبل جاری کردہ سرکلر نمبر 7 آف 2026 میں جزوی ترمیم کرتا ہے۔

نظرثانی شدہ فریم ورک کا اطلاق مختلف اقسام کے مالیاتی اداروں اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں میں آڈیٹرز کی تقرری پر ہوگا۔ اس دائرے میں ایس ای سی پی ایکٹ 1997، سیکیورٹیز ایکٹ 2015، فیوچرز مارکیٹ ایکٹ 2016، مضاربہ قوانین، کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ کمپنیز ایکٹ 2016، انشورنس آرڈیننس 2000 اور نان بینکنگ فنانس کمپنیوں سے متعلق قواعد و ضوابط کے تحت آنے والے ادارے شامل ہیں۔

آڈٹ فرموں کی منظوری کا نظام مالیاتی رپورٹنگ، سرمایہ کاروں کے تحفظ اور ریگولیٹری نگرانی کے لیے اہم ہے، کیونکہ مختلف درجوں کے مالی اداروں کے مالی بیانات کی جانچ ایسے آڈیٹرز سے کرانا مقصود ہوتا ہے جو کمیشن کے مقرر کردہ تجربے، صلاحیت اور دیگر شرائط پر پورا اتریں۔ تازہ سرکلر کے ذریعے کمیشن نے اسی منظوری کے نظام میں اہلیت کے تقاضوں کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔

یہ تبدیلی کسی ایک آڈٹ فرم کے خلاف تادیبی کارروائی یا کسی مخصوص ادارے کے مالی بیانات پر اعتراض نہیں ہے۔ اس کا تعلق عمومی ریگولیٹری فریم ورک سے ہے جس کے تحت مختلف کیٹیگریز کے ادارے اپنے قانونی آڈیٹرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ متعلقہ کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو آئندہ تقرریوں اور آڈٹ انتظامات میں تازہ معیار کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

پاکستان میں کارپوریٹ اور مالیاتی شعبے کی نگرانی میں آزاد اور اہل آڈٹ کا کردار بنیادی ہے، خصوصاً انشورنس، نان بینکنگ فنانس، کیپٹل مارکیٹ اور دیگر عوامی مفاد کے اداروں میں۔ ایس ای سی پی کی تازہ ترمیم اس نگرانی کے معیار کو نئے ریگولیٹری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔ عملی اثرات اس بات پر منحصر ہوں گے کہ کون سی آڈٹ فرمیں نظرثانی شدہ معیار کے تحت مختلف زمروں کے لیے اہل رہتی ہیں اور ریگولیٹڈ ادارے اپنی آئندہ تقرریوں کو کس طرح ایڈجسٹ کرتے ہیں۔