لندن/دبئی: اوپیک پلس اکتوبر 2026 کے لیے اپنی موجودہ تیل پیداوار پالیسی برقرار رکھنے کے قریب ہے۔ رائٹرز نے 6 ستمبر کو معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ گروپ کے رکن ممالک اتوار کے اجلاس میں فوری طور پر نئی اضافی پیداوار بڑھانے کے بجائے موجودہ انتظام کو جاری رکھنے کی طرف مائل ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت زیر غور ہے جب ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی نقل و حرکت کے مسائل نے عالمی تیل منڈی میں غیر یقینی بڑھا دی ہے۔

اوپیک پلس میں اوپیک کے رکن ممالک کے ساتھ روس سمیت کئی اتحادی پیدا کنندگان شامل ہیں۔ گروپ نے اس سے قبل 2023 میں طے کی گئی تقریباً 16 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ پیداوار کٹوتی کو مرحلہ وار واپس لینے کا منصوبہ بنایا تھا۔ رائٹرز کے مطابق ستمبر 2026 کے لیے طے شدہ اضافہ اس منصوبے کے آخری مرحلے میں شامل تھا، مگر موجودہ جنگی صورت حال کے باعث حقیقی پیداوار اور برآمدات کئی جگہ ہدف سے کم ہیں۔

ایران جنگ نے خلیج سے تیل کی ترسیل پر دباؤ بڑھایا ہے اور آبنائے ہرمز میں محدود یا غیر معمولی نقل و حرکت نے اوپیک پلس کی معمول کی مارکیٹ مینجمنٹ صلاحیت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسے حالات میں صرف کاغذی پیداوار ہدف بڑھانے سے لازماً عالمی منڈی میں اتنی ہی اضافی سپلائی نہیں پہنچتی۔ اسی لیے ذرائع کے مطابق گروپ چوتھی سہ ماہی کے لیے مزید اضافہ کرنے سے پہلے مارکیٹ، برآمدی راستوں اور رکن ممالک کی عملی پیداواری صلاحیت کا جائزہ لینا چاہتا ہے۔

گروپ کے بیشتر 21 ارکان کے لیے بعض کٹوتیاں 2026 کے اختتام تک بدستور نافذ ہیں۔ رائٹرز کے مطابق اگلے مرحلے سے پہلے اوپیک پلس کو رکن ممالک کی پیداواری صلاحیتوں کا دوبارہ تعین کرنا ہوگا تاکہ 2027 کے لیے نئی بیس لائنز طے کی جا سکیں۔ یہ تکنیکی عمل حساس سمجھا جاتا ہے کیونکہ ہر ملک کی بیس لائن مستقبل میں اس کے مجاز کوٹے اور ممکنہ آمدنی پر اثر ڈالتی ہے۔

ذرائع نے اشارہ دیا کہ اسی وجہ سے 2026 کی آخری سہ ماہی میں پیداوار بڑھانے کے سلسلے میں وقفہ زیادہ محتاط راستہ سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم اجلاس سے پہلے زیر بحث پوزیشن حتمی فیصلہ نہیں ہوتی، اور رسمی اعلان کے بعد ہی اکتوبر کی پالیسی کی قطعی تصدیق ہوگی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر اس وقت صرف اوپیک پلس کی پالیسی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی فوجی صورت حال، ہرمز سے برآمدی بہاؤ، پابندیوں، عالمی طلب اور ذخائر کی سطح بھی اثرانداز ہو رہی ہے۔ اس لیے موجودہ خبر کو ذرائع کی بنیاد پر اجلاس سے قبل کی پالیسی سمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ حتمی سرکاری قرارداد کے طور پر۔