اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی پر اشتہارات کی دستیابی پاکستان سمیت مزید 26 ممالک تک بڑھا دی ہے۔ جیو نیوز اور رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس توسیع کے بعد کمپنی کا اشتہاری نظام مجموعی طور پر 89 ممالک میں دستیاب ہو گیا ہے، جو مصنوعی ذہانت کی خدمات سے آمدن بڑھانے کی اس کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔
کمپنی کے مطابق اشتہاری مہمات نئی مارکیٹوں میں ٹیکنالوجی پارٹنرز کے ذریعے چلائی جا سکیں گی، جبکہ بعض مشتہرین کو کمپنی کے اپنے ایڈز مینیجر کے ذریعے سیلف سروس رسائی بھی حاصل ہوگی۔ اوپن اے آئی نے بتایا کہ رواں سال امریکا میں اشتہارات کی آزمائش شروع ہونے کے بعد ایک لاکھ سے زیادہ مشتہرین پلیٹ فارم پر مہمات چلا چکے ہیں۔
پاکستان کی شمولیت مقامی ڈیجیٹل اشتہاری مارکیٹ کے لیے اہم پیش رفت ہے کیونکہ چیٹ جی پی ٹی کو معلومات، تعلیم، تحریر، کاروباری معاونت اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ نئی دستیابی سے پاکستانی کاروباروں اور بین الاقوامی برانڈز کو اس پلیٹ فارم پر مقامی صارفین تک پہنچنے کا ایک اضافی ذریعہ مل سکتا ہے۔
اشتہارات کا ماڈل کمپنی کی سبسکرپشن اور انٹرپرائز آمدن کے ساتھ ایک اضافی کاروباری راستہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز چلانے کے لیے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر پر بھاری اخراجات ہوتے ہیں، اس لیے صنعت کی بڑی کمپنیاں آمدن کے متعدد ذرائع تلاش کر رہی ہیں۔ اشتہاری توسیع اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔
کمپنی نے اشتہارات کو مزید ممالک میں پھیلانے کا اعلان کیا ہے، تاہم ہر صارف کو لازماً ایک ہی انداز یا ایک ہی وقت پر اشتہارات دکھائی دیں، یہ ضروری نہیں۔ دستیابی اکاؤنٹ، منصوبے، مارکیٹ اور کمپنی کی مرحلہ وار تعیناتی کے مطابق مختلف ہو سکتی ہے۔
پاکستان میں اس اقدام کے عملی اثرات آنے والے مہینوں میں زیادہ واضح ہوں گے، خصوصاً اس حوالے سے کہ مقامی مشتہرین پلیٹ فارم کو کس پیمانے پر اپناتے ہیں، اشتہاری فارمیٹس کیسے استعمال ہوتے ہیں اور صارفین کی جانب سے اس نئے تجارتی ماڈل پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔

