اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام، امن و امان اور دیگر اہم سیاسی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کے امکان پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں اپوزیشن قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے مطابق اپوزیشن حلقوں میں اس بات پر مشاورت جاری ہے کہ مختلف قومی اور آئینی نوعیت کے معاملات کو ایک مشترکہ فورم پر زیر بحث لایا جائے۔ نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ بھی زیر غور موضوعات میں شامل ہے، تاہم اس مرحلے پر کسی حتمی ایجنڈے یا فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اپوزیشن رابطوں کا ایک اہم پہلو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں تعاون بڑھانا ہے۔ مختلف جماعتوں کے درمیان مشاورت میں سیاسی احتجاج، پارلیمانی حکمت عملی اور آئندہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مشترکہ اپوزیشن کے تصور پر اصولی اتفاق کی جانب پیش رفت کی ہے۔

نئے صوبوں کی تشکیل پاکستان میں آئینی اور سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے، کیونکہ کسی بھی عملی تبدیلی کے لیے محض سیاسی اعلان کافی نہیں بلکہ آئینی تقاضوں اور متعلقہ وفاقی و صوبائی اداروں کے کردار کو بھی ملحوظ رکھنا ہوتا ہے۔ موجودہ مشاورت کو اس لیے حتمی حکومتی یا پارلیمانی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا؛ یہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی رابطہ کاری کا مرحلہ ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب مختلف سیاسی جماعتیں 27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور دیگر قومی معاملات پر اپنی حکمت عملی مرتب کر رہی ہیں۔ آئندہ دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آل پارٹیز کانفرنس کب اور کس ایجنڈے کے ساتھ بلائی جاتی ہے اور کون سی جماعتیں اس میں شرکت پر آمادہ ہوتی ہیں۔