پاکستان کے مختلف بڑے ہوائی اڈوں پر خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے باعث 60 سے زائد ملکی و غیر ملکی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں، جبکہ متعدد ایئرلائنز نے اپنے شیڈول میں بار بار تبدیلیاں کیں۔ اس صورتحال سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے اور کئی بین الاقوامی روٹس پر روانگی اور آمد کے اوقات غیر یقینی کا شکار رہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جدہ، ریاض، متحدہ عرب امارات اور دیگر مقامات کے لیے 15 پروازیں منسوخ ہوئیں۔ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 19، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 14، سیالکوٹ میں 2، فیصل آباد میں 4، پشاور میں 4 اور ملتان میں 5 پروازوں کی منسوخی رپورٹ ہوئی۔ یوں مختلف شہروں میں متاثر ہونے والی پروازوں کی مجموعی تعداد 60 سے زائد رہی۔
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق منسوخیوں اور شیڈول میں تبدیلیوں کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ کے فضائی راستوں سے متعلق بڑھتی ہوئی غیر یقینی اور بعض روٹس پر آپریشنل پابندیاں یا احتیاطی فیصلے ہیں۔ ایئرلائنز نے مسافروں کو روانگی سے قبل اپنی فلائٹ کی تازہ صورتحال چیک کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ خطے میں سکیورٹی حالات کے مطابق شیڈول مختصر نوٹس پر تبدیل ہو سکتے ہیں۔
پاکستان سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کے لیے بڑی تعداد میں روزانہ مسافر سفر کرتے ہیں، اس لیے ان روٹس پر منسوخیوں کا اثر نہ صرف سیاحتی اور کاروباری سفر بلکہ ملازمت پیشہ افراد، عمرہ زائرین اور ٹرانزٹ مسافروں پر بھی پڑتا ہے۔ متعدد مسافروں کو متبادل پروازیں، ری بکنگ یا سفر کی نئی تاریخیں اختیار کرنا پڑ رہی ہیں۔
حکام کی جانب سے کسی ایک قومی سطح کے مکمل آپریشنل بندش کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے صورتحال ایئرپورٹ اور روٹ کے لحاظ سے مختلف ہے۔ موجودہ مرحلے پر پروازوں کی بحالی کا انحصار علاقائی فضائی حدود، ایئرلائنز کے حفاظتی جائزوں اور متعلقہ ممالک کی ایوی ایشن ہدایات پر ہے۔
مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر مصدقہ سوشل میڈیا اطلاعات پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی ایئرلائن، ایئرپورٹ یا متعلقہ سول ایوی ایشن ذرائع سے تازہ معلومات حاصل کریں۔ اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو پاکستان کے بین الاقوامی فضائی آپریشن پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم فی الحال منسوخیاں مخصوص روٹس اور پروازوں تک محدود بتائی جا رہی ہیں۔




