اسلام آباد: پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے ادارہ جاتی گاڑیوں اور آپریشنل ضروریات کے لیے ایندھن کی فراہمی سے متعلق معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ 5 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق معاہدہ دو بنیادی حصوں پر مشتمل ہے: پی اے ای سی کو پی ایس او فلیٹ کارڈز کی فراہمی اور پٹرولیم، آئل و لبریکنٹس کی بڑی مقدار میں رعایتی نرخوں پر دستیابی۔
پی اے ای سی کے مطابق اس انتظام کا مقصد ادارے کے لیے ایندھن کی قابلِ اعتماد، منظم اور مؤثر فراہمی کا طریقہ قائم کرنا ہے۔ فلیٹ کارڈز کے ذریعے ادارے کی متعلقہ گاڑیوں کو پی ایس او کے نظام سے ایندھن حاصل کرنے کی سہولت ملے گی، جبکہ بلک سپلائی کا حصہ ان مقامات یا آپریشنز کے لیے ہے جہاں پٹرولیم مصنوعات اور لبریکنٹس بڑی مقدار میں درکار ہوں۔
دونوں اداروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ معاہدے سے پی اے ای سی کو آپریشنل اور مالی فوائد حاصل ہوں گے۔ تاہم دستیاب اعلامیے میں رعایت کی شرح، متوقع سالانہ بچت، خریداری کی مقدار، معاہدے کی مدت، ادائیگی کی شرائط یا فراہمی کے مقامات کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے پر کسی مخصوص مالی فائدے یا لاگت میں کمی کا عدد بیان نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اسٹیٹ آئل ملک کی بڑی سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنی ہے، جبکہ پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مختلف سائنسی، توانائی، صحت اور انتظامی مراکز ملک کے متعدد علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ ایسے وسیع ادارہ جاتی نیٹ ورک میں گاڑیوں، مشینری اور معاون سرگرمیوں کے لیے ایندھن و لبریکنٹس کی مسلسل دستیابی انتظامی ضرورت ہوتی ہے۔ تازہ معاہدہ اسی ضرورت کو ایک مشترکہ سپلائی فریم ورک کے تحت پورا کرنے کی کوشش ہے۔
فلیٹ کارڈ اور بلک فراہمی دو الگ خریداری ذرائع ہیں۔ پہلا ذریعہ معمول کی گاڑیوں کے لیے پمپ نیٹ ورک کے استعمال سے متعلق ہے، جبکہ دوسرا بڑی مقدار میں براہِ راست فراہمی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ پی اے ای سی یا پی ایس او نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے مراکز یا گاڑیاں ہر طریقے کے تحت آئیں گی، اس لیے معاہدے کے عملی دائرے کا مکمل اندازہ مزید سرکاری تفصیل سے ہوگا۔
اعلامیے میں اس معاہدے کو دونوں سرکاری اداروں کے پیشہ ورانہ تعلقات مضبوط بنانے میں اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔ یہ بیان فریقین کی توقع اور ادارہ جاتی مؤقف ہے؛ حقیقی نتیجہ فراہمی کے تسلسل، منظور شدہ نرخوں، بلنگ کے نظام، معیار کی نگرانی اور معاہدے پر عمل درآمد کے بعد ہی جانچا جا سکے گا۔
اس پیش رفت کو ایندھن کی نئی قومی قیمت یا عام صارفین کے لیے رعایتی اسکیم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ معاہدہ پی اے ای سی کی ادارہ جاتی ضروریات اور پی ایس او کی تجارتی فراہمی کے درمیان مخصوص انتظام ہے۔ عام پٹرول پمپ صارفین کے نرخ، ٹیکس یا سرکاری ریٹ اس معاہدے سے تبدیل ہونے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
آئندہ اہم معلومات میں معاہدے کی مدت، خریداری کا تخمینہ، مالی شرائط، کارڈز کی تعداد اور کارکردگی جانچنے کا طریقہ شامل ہوں گے۔ فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہی ہے کہ پی اے ای سی اور پی ایس او نے فلیٹ کارڈز اور رعایتی بلک پٹرولیم و لبریکنٹس سپلائی کے دو نکاتی انتظام پر باقاعدہ اتفاق کر لیا ہے۔




