لندن: پاکستان کے تین ارب ڈالر مالیت کے دو حصوں پر مشتمل بین الاقوامی یورو بانڈز کی لندن اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کے موقع پر تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کی۔ یہ پیش رفت پاکستان کی حالیہ بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں واپسی کے بعد بانڈز کی باقاعدہ مارکیٹ لسٹنگ کا مرحلہ ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے لندن اسٹاک ایکسچینج کے ہیڈکوارٹرز میں کاروباری دن کے آغاز کی رسمی تقریب میں حصہ لیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ شہباز شریف پہلے پاکستانی وزیراعظم ہیں جنہوں نے لندن اسٹاک ایکسچینج میں مارکیٹ اوپن تقریب میں شرکت کرکے ٹریڈنگ کے آغاز کی رسمی کارروائی انجام دی۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں چار سال کے وقفے کے بعد بین الاقوامی بانڈ مارکیٹ میں تین ارب ڈالر کے بانڈز جاری کیے تھے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پہلے بتا چکے ہیں کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے موصول ہونے والے آرڈرز مطلوبہ رقم کے تقریباً دو گنا تھے اور ایشیائی سرمایہ کاروں کی شرکت نمایاں رہی۔ لندن میں ہونے والی لسٹنگ اسی اجرا سے متعلق ہے، کوئی الگ تین ارب ڈالر کا نیا قرض اعلان نہیں کیا گیا۔

وزیراعظم نے تقریب سے خطاب میں حکومت کی معاشی اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات پر بات کی اور یورو بانڈ اجرا کو عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ پاکستان کے روابط میں پیش رفت قرار دیا۔ یہ حکومت کا مؤقف ہے؛ بانڈز کی آئندہ مارکیٹ کارکردگی، قیمت اور سرمایہ کاروں کا رویہ عالمی شرح سود، پاکستان کے کریڈٹ رسک اور معاشی حالات سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوگا۔

لندن اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ سے بانڈز کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک تسلیم شدہ تجارتی پلیٹ فارم ملتا ہے۔ پاکستان کے لیے اس اجرا کی اہمیت صرف حاصل شدہ سرمایہ تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں عالمی کیپٹل مارکیٹ تک رسائی کی لاگت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد سے بھی جڑی ہے۔ آئندہ ادائیگیوں اور قرض کے انتظام کا اثر پاکستان کے مجموعی بیرونی مالیاتی فریم ورک میں دیکھا جائے گا۔