اسلام آباد: پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اسرائیلی وزرا کی جانب سے غزہ سے فلسطینی آبادی کی منتقلی یا بے دخلی سے متعلق حالیہ بیانات کی مشترکہ طور پر مذمت کی ہے۔ پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنے کی کسی بھی کوشش سے نہ صرف ان کے بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقوق متاثر ہوں گے بلکہ خطے کے استحکام کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یہ مشترکہ ردعمل اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز اور قومی سلامتی کے انتہائی دائیں بازو کے وزیر اتمار بن گویر کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا جن میں غزہ کے فلسطینیوں کی نقل مکانی کی حمایت کی گئی۔ کاتز نے غزہ کے مستقبل سے متعلق گفتگو میں فلسطینیوں کی منتقلی کو ایک ممکنہ راستہ قرار دیا، جبکہ بن گویر نے سات سالہ منصوبے کے تحت جسے انہوں نے ”رضاکارانہ ہجرت“ کہا، فلسطینیوں کو غزہ سے باہر منتقل کرنے اور اس مقصد کے لیے الگ حکومتی وزارت قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ یہ دونوں سیاسی تجاویز اسرائیلی حکومت کی حتمی منظور شدہ پالیسی کے طور پر پیش نہیں کی گئیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ کی جانب سے شیئر کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ایسے بیانات اور منصوبے بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں سے متصادم ہیں۔ آٹھ ممالک نے زور دیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق، ان کی زمین سے وابستگی اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ زبردستی آبادی کی منتقلی یا ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

مشترکہ بیان میں غزہ کے تنازع کے سیاسی حل اور فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی پاسداری پر زور دیا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے فلسطینی ریاست کے قیام اور مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ موجودہ بیان میں آٹھ ملکوں نے کسی مخصوص فوجی اقدام کا اعلان نہیں کیا بلکہ سفارتی سطح پر اسرائیلی وزرا کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے قانونی اور انسانی اصولوں کی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔