ویانا/کیف: اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے آئی اے ای اے کی ثالثی سے روس کے زیر کنٹرول زاپوریژیا جوہری بجلی گھر کے اطراف عارضی مقامی جنگ بندی 5 ستمبر کو نافذ ہو گئی تاکہ پلانٹ کی بیرونی بجلی بحال کرنے کے لیے خراب پاور لائن کی مرمت کی جا سکے۔ رائٹرز کے مطابق پلانٹ 20 اگست سے بیرونی بجلی سے محروم ہے اور اہم حفاظتی نظام کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز پر انحصار کر رہا ہے۔

آئی اے ای اے نے خبردار کیا ہے کہ ڈیزل ایندھن کی دستیابی محدود ہو رہی ہے اور اگر بیرونی بجلی جلد بحال نہ ہوئی یا اضافی ایندھن نہ پہنچا تو پلانٹ کو مکمل بجلی بند ہونے کی صورت حال، یعنی اسٹیشن بلیک آؤٹ، کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں مقامی جنگ بندی کا مقصد یوکرینی تکنیکی ٹیموں کو خراب فیروسپلاونا پاور لائن تک محفوظ رسائی فراہم کرنا ہے۔

رائٹرز کے مطابق مرمت سے پہلے متاثرہ علاقے میں بارودی سرنگوں اور دیگر ممکنہ خطرات کی صفائی ضروری تھی۔ روسی جوہری ادارے روس اٹوم کے سربراہ الیکسی لیکھاچیف نے کہا کہ عارضی جنگ بندی ہفتہ کی صبح نافذ ہوئی اور توقع ہے کہ تقریباً ایک ہفتہ برقرار رہے گی تاکہ مرمت کا کام مکمل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق لائن کی مرمت خودبخود بیرونی بجلی کی فوری بحالی کی ضمانت نہیں دیتی۔

لیکھاچیف نے دعویٰ کیا کہ ایک دوسری بجلی لائن 23 جولائی کو مرمت کے باوجود یوکرینی حکام کی جانب سے کارروائی نہ ہونے کے باعث دوبارہ منسلک نہیں ہو سکی۔ یوکرین نے اس مخصوص دعوے اور تازہ جنگ بندی سے متعلق فوری عوامی ردعمل نہیں دیا۔ دونوں فریق ماضی میں بارہا ایک دوسرے پر ایسی فوجی سرگرمیوں کے الزامات لگاتے رہے ہیں جن سے پلانٹ کی جوہری سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، اس لیے متنازع دعووں کو ان کے متعلقہ فریق سے منسوب کیا جا رہا ہے۔

زاپوریژیا یورپ کا سب سے بڑا جوہری بجلی گھر ہے اور روسی افواج نے 2022 کی جنگ کے ابتدائی ہفتوں میں اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگرچہ اس کے ری ایکٹر بجلی کی معمول کی پیداوار کے لیے بند ہیں، پھر بھی spent fuel، ری ایکٹر کولنگ اور دیگر حفاظتی نظام کے لیے مسلسل برقی فراہمی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی پاور لائن کی طویل بندش کو آئی اے ای اے مسلسل جوہری سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔

مقامی جنگ بندی جنگ کے وسیع تر محاذ پر سیاسی یا فوجی سیزفائر نہیں بلکہ مخصوص تکنیکی مرمت کے لیے محدود انتظام ہے۔ اس اقدام کی کامیابی کا انحصار متاثرہ لائن تک محفوظ رسائی، مرمت کی تکمیل اور پھر بیرونی گرڈ سے عملی طور پر دوبارہ رابطہ بحال ہونے پر ہوگا۔ خبر کی اشاعت تک پلانٹ بدستور ڈیزل جنریٹرز پر منحصر تھا۔