ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ ختم کرنے کی ایک نئی امریکی تجویز پر بات چیت کے لیے ماسکو پہنچ گئے ہیں۔ روسی صدارتی ایلچی کریل دمتریئیف نے دونوں نمائندوں کا ونوکووو بین الاقوامی ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔
امریکی وفد کے ماسکو مذاکرات کے بعد کیف جانے کی توقع ہے، جہاں وہ یوکرینی قیادت کو روسی مؤقف اور واشنگٹن کی تجویز پر بریف کرسکتا ہے۔ ایک سینئر یوکرینی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں نمائندے اتوار کو کیف پہنچ سکتے ہیں۔ یہ طے شدہ دورے کی سرکاری مکمل تفصیل نہیں؛ رپورٹنگ کے وقت ملاقاتوں کا حتمی شیڈول یا سفری راستہ عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا تھا۔
امریکی ویب سائٹ Axios نے رپورٹ کیا کہ وٹکوف اور کشنر ہفتے کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔ تاہم دستیاب رپورٹ میں کریملن یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے ملاقات کے وقت اور ایجنڈے کی مکمل سرکاری تصدیق شامل نہیں تھی۔ اس لیے پیوٹن سے ملاقات کو متوقع سفارتی پروگرام سمجھا جائے گا، مکمل شدہ نتیجہ نہیں۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ دونوں مذاکرات کار یہ جانچنے گئے ہیں کہ جنگ روکنے کے لیے پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفد ایک امن تجویز لے کر جارہا ہے، مگر اس کی شقیں ظاہر نہیں کیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ تجویز میں یوکرین سے کسی علاقے کے دستبردار ہونے کا مطالبہ شامل ہے یا نہیں، حالانکہ وہ ماضی میں علاقائی سمجھوتے کی بات کر چکے ہیں۔
وٹکوف اور کشنر اس سے پہلے غزہ اور ایران سے متعلق جنگ بندی مذاکرات میں شامل رہے اور روس کے ساتھ سفارت کاری کی سابق کوششوں کے لیے متعدد بار ماسکو جا چکے ہیں۔ اگر وہ کیف جاتے ہیں تو ٹرمپ کی موجودہ مدت میں جنگ زدہ یوکرین کا یہ ان کا پہلا دورہ ہوگا۔ یوکرینی فضائی حدود 2022 سے جنگ کے باعث بند ہیں اور غیر ملکی رہنما عموماً ریل کے ذریعے کیف پہنچتے ہیں، اس لیے ممکنہ فضائی سفر غیر معمولی ہوگا۔
اسی دوران یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا کہ روس نے رات کے حملوں کے ذریعے امریکی نمائندوں کے دورے میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق کیف کے دو ہوائی اڈوں اور دنیپرو خطے کے ایک شہری مقام کو نشانہ بنایا گیا، جہاں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ روس کی جانب سے اس مخصوص الزام کا جواب دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھا، اس لیے حملوں کے سفارتی مقصد سے متعلق دعویٰ زیلنسکی کے مؤقف کے طور پر درج ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرینی جانب سے سفارت کاری کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ دوسری طرف ماسکو اور کیف نے حالیہ عرصے میں طویل فاصلے کے حملے بڑھائے ہیں اور شہری ہلاکتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی امن کوششیں بھی وسیع تر علاقائی جنگ اور واشنگٹن کی ایران سے متعلق فوجی مصروفیت کے دوران تعطل کا شکار رہی ہیں۔
تازہ دورہ بذاتِ خود جنگ بندی یا امن معاہدہ نہیں ہے۔ اس کی کامیابی کا تعین اس بات سے ہوگا کہ ماسکو اور کیف تجویز کی بنیادی شرائط، سلامتی ضمانتوں، مقبوضہ علاقوں، پابندیوں اور جنگ بندی کے قابلِ نگرانی طریقۂ کار پر کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچتے ہیں یا نہیں۔ رپورٹنگ کے وقت کوئی مشترکہ اعلامیہ، جنگ بندی کی تاریخ یا فریقین کی منظور شدہ شرائط سامنے نہیں آئی تھیں۔




