لاپاز: بولیویا کے شہر ویاچا میں ایک فوجی بیرک کے اندر دھماکے سے کم از کم دو افراد کی موت کی سرکاری تصدیق ہوئی ہے، جبکہ وزارتِ دفاع نے 14 افراد کو لاپتا قرار دیا ہے۔ وزیر دفاع ارنیستو جسٹینیانو نے یہ تازہ اعداد جاری کیے، جو واقعے کے فوراً بعد سامنے آنے والے زیادہ ہلاکتوں کے ابتدائی مقامی تخمینے سے مختلف ہیں۔ درجنوں زخمیوں کو ویاچا اور دارالحکومت لاپاز کے طبی مراکز منتقل کیا گیا ہے۔

دھماکا جمعہ 4 ستمبر کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر تقریباً ڈھائی بجے ویاچا کی فوجی تنصیب میں ہوا، جو لاپاز سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہے۔ حکام کے مطابق متاثرہ حصہ آتش بازی اور پائروٹیکنک مواد ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ دھماکا اس کے آتش بازی کے ذخیرے سے شروع ہوا، تاہم اس مواد میں آگ یا دھماکا ہونے کی اصل وجہ ابھی طے نہیں ہوئی اور تحقیقات جاری ہیں۔

ویاچا کی ڈائریکٹر صحت ریٹا نیبراسکا نے ابتدائی طور پر مقامی ٹیلی وژن کو بتایا تھا کہ 10 سے 15 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے اور 62 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ بعد میں وزیر دفاع کی جانب سے دو تصدیق شدہ اموات اور 14 لاپتا افراد کی اطلاع سامنے آئی۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابتدائی اندازے ملبے، رابطے کی دشواری اور لاپتا افراد کی غیر واضح حالت پر مبنی تھے؛ اس مرحلے پر دو اموات ہی سرکاری طور پر تصدیق شدہ تعداد ہے۔

صحت حکام کے مطابق 14 زخمیوں کو زیادہ علاج کے لیے لاپاز کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں تیسری درجے کے جلنے کے زخموں والی ایک بچی بھی شامل ہے۔ پولیس نے 50 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے اور آس پاس کے درجنوں گھروں کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی۔ دھماکے کی شدید لہر سے رہائشی عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹیں اور شیشے و دیگر ملبہ پھیل گیا۔ زخمیوں کی مختلف گنتیاں بھی اداروں کے الگ اوقات اور طبی مراکز سے ملنے والی معلومات کی وجہ سے ہوسکتی ہیں۔

ایمبولینسوں، طبی ٹیموں، پولیس، فوج اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کو تنصیب اور ملحقہ آبادی میں تعینات کیا گیا۔ امدادی کارکن زخمیوں کو نکالنے، لاپتا افراد کی تلاش، ملبے کا جائزہ لینے اور خطرناک مواد کو محفوظ بنانے میں مصروف رہے۔ حکام نے فوری طور پر یہ نہیں بتایا کہ لاپتا افراد فوجی اہلکار ہیں، شہری کارکن ہیں یا ان میں دونوں گروہ شامل ہیں۔

فائر فائٹرز نے جائے وقوعہ پر باقی رہ جانے والے حرارتی منبع کے باعث مزید دھماکے کے امکان سے خبردار کیا۔ مقامی لوگوں کو تنصیب سے کم از کم 150 میٹر دور رہنے کی ہدایت کی گئی اور حفاظتی دائرہ قائم کیا گیا۔ آس پاس کے گھروں میں واپسی بھی سکیورٹی اور فائر ماہرین کی اجازت سے مشروط رہی، کیونکہ آتش گیر یا دھماکا خیز مواد کے مکمل طور پر غیر مؤثر ہونے کی تصدیق فوری طور پر نہیں ہوئی تھی۔

حادثے کی ذمہ داری، ذخیرہ شدہ مواد کی نوعیت، حفاظتی ضابطوں کی پابندی اور ممکنہ انسانی یا تکنیکی غلطی کا حتمی تعین تفتیش کے بعد ہوگا۔ دستیاب معلومات میں تخریب کاری یا حملے کا کوئی ثابت شدہ دعویٰ سامنے نہیں آیا۔ اس لیے واقعے کو اس مرحلے پر زیرِ تفتیش صنعتی و فوجی تنصیب کا دھماکا سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی یقینی حملے کا نتیجہ۔

ہلاکتوں کی حتمی تعداد لاپتا افراد کی تلاش اور ہسپتالوں کی تازہ معلومات سے بدل سکتی ہے۔ موجودہ درست ترین سرکاری صورت حال دو تصدیق شدہ اموات، 14 لاپتا افراد، درجنوں زخمی اور آس پاس کے مکانات کو نقصان ہے، جبکہ 10 سے 15 اموات کا پہلے دیا گیا عدد ایک ابتدائی خدشہ تھا۔