سری لنکا کے انسداد بدعنوانی حکام نے سابق صدر مہندا راجا پکشا کے بیٹے اور رکن پارلیمان نامل راجا پکشا کو 2013 کے ایئربس طیارہ خریداری معاہدے سے منسلک مبینہ مالی ادائیگی کی تحقیقات میں گرفتار کرلیا ہے۔ ڈان میں شائع اے ایف پی کی 5 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق گرفتاری ایک روز پہلے کولمبو میں پوچھ گچھ کے بعد ہوئی۔ ایک مجسٹریٹ نے 40 سالہ سیاست دان کو دو ہفتے عدالتی حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔
انسداد بدعنوانی ادارے نے عدالت میں الزام لگایا کہ نامل راجا پکشا کو 2.3 ارب ڈالر کے 2013 کے طیارہ معاہدے سے متعلق مبینہ ادائیگیوں میں سے آٹھ لاکھ ڈالر موصول ہوئے۔ ادارے کے مطابق یورپی طیارہ ساز کمپنی کی جانب سے سری لنکن سیاست دانوں اور حکام کو معاہدہ حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر دی گئی رقم کا ایک حصہ ان تک پہنچا۔ یہ تفتیشی ادارے کا الزام ہے، جرم کا عدالتی طور پر ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سری لنکا کے ایک کاروباری شخص نے سنگاپور میں موجود دو بینک اکاؤنٹس کے ذریعے رقم نامل راجا پکشا تک منتقل کرنے کا انتظام کیا۔ رپورٹ میں کاروباری شخص کا نام، دونوں اکاؤنٹس کے مالک، منتقلی کی مکمل تاریخیں یا بینکاری دستاویزات کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ ان دعوؤں کی قانونی حیثیت استغاثہ کے شواہد، دفاع کے جواب اور عدالتی جانچ سے طے ہوگی۔
راجا پکشا کے وکیل نشانتا دیانندا نے عدالت سے ضمانت کی درخواست کی، لیکن مجسٹریٹ نے اسے مسترد کرکے دو ہفتے حراست کا حکم دیا۔ ضمانت مسترد ہونا سزا یا الزام درست ثابت ہونے کے مترادف نہیں؛ یہ مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں حراست سے متعلق عدالتی فیصلہ ہے۔ ملزم کو اپنے خلاف شواہد چیلنج کرنے، قانونی دفاع پیش کرنے اور قانون کے مطابق مزید ضمانتی یا عدالتی درخواستیں دائر کرنے کا حق حاصل ہے۔
تحقیقات کا مرکز یہ دعویٰ ہے کہ طیارہ ساز کمپنی سے منسلک مبینہ ادائیگیوں کا کچھ حصہ سری لنکن حکام یا سیاسی شخصیات تک پہنچایا گیا۔ سری لنکا کی نئی حکومت نے 2016 میں متعلقہ خریداری منسوخ کردی تھی۔ معاہدے کی منسوخی اور موجودہ فوجداری یا انسداد بدعنوانی تحقیقات الگ مراحل ہیں؛ منسوخی بذاتِ خود کسی مخصوص شخص کی رشوت ستانی ثابت نہیں کرتی۔
انسداد بدعنوانی حکام نے مئی 2026 میں سابق صدر مہندا راجا پکشا سے بھی ان دعوؤں پر پوچھ گچھ کی تھی کہ انہیں طیاروں کی خریداری سے متعلق مبینہ کمیشن یا غیر قانونی ادائیگیاں ملی تھیں۔ رپورٹ میں ان کے خلاف کسی فردِ جرم، گرفتاری یا عدالتی سزا کی تصدیق نہیں کی گئی۔ ان سے سوالات ہونا جاری تفتیش کا حصہ تھا اور اسے نامل راجا پکشا کے موجودہ ریمانڈ سے الگ قانونی حیثیت میں دیکھا جائے گا۔
راجا پکشا خاندان نے رشوت وصول کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے بدعنوانی کے مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ یہ خاندان کا باضابطہ دفاعی مؤقف ہے۔ تفتیشی ادارے اور دفاع کے متضاد دعوؤں کے درمیان حتمی فیصلہ عدالت ثبوت، گواہی، مالی ریکارڈ اور قابل اطلاق قانون کی بنیاد پر کرے گی۔
نامل راجا پکشا ایک رکن پارلیمان اور اس خاندان کے نمایاں سیاسی وارث ہیں جس نے طویل عرصے تک سری لنکا کی سیاست پر اثر رکھا۔ ان کی سیاسی حیثیت مقدمے کی عوامی اہمیت بڑھاتی ہے، لیکن قانونی ذمہ داری کا معیار دوسرے ملزمان کی طرح ثبوت اور منصفانہ کارروائی ہی ہوگا۔ حکام کو مالی ریکارڈ کے ساتھ رقم کے اصل ماخذ، منتقلی کے مقصد، فائدہ اٹھانے والے فرد اور معاہدے پر ممکنہ اثر کا تعلق ثابت کرنا ہوگا۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت نامل راجا پکشا کی انسداد بدعنوانی ادارے کے ہاتھوں گرفتاری، عدالت میں آٹھ لاکھ ڈالر وصول کرنے کا الزام، وکیل کی ضمانت درخواست کا مسترد ہونا اور دو ہفتے کی عدالتی حراست ہے۔ رشوت، رقم کی منتقلی کے مقصد اور کسی دوسرے فرد کی شمولیت کا حتمی تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہوگا، اور ملزم جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور ہوگا۔




