صنعا: یمن کے جنوب مغربی علاقوں میں سعودی حمایت یافتہ حکومت کی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان تازہ لڑائی میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو یمنی فوجی اور طبی ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ 5 ستمبر کو کئی گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپوں میں دونوں جانب کے جنگجوؤں کے ساتھ شہری بھی مارے گئے۔ جنگی حالات کے باعث ہلاکتوں کے ان اعداد کی آزادانہ اور فوری تصدیق محدود ہے۔
تین یمنی فوجی ذرائع کے مطابق حکومتی فورسز کے 26 اہلکار ہلاک ہوئے۔ حوثیوں سے وابستہ طبی اور فوجی ذرائع نے اپنے 31 جنگجوؤں کی ہلاکت بتائی۔ حکومت کے زیرِ انتظام شہر تعز کے ایک طبی ذریعے نے کہا کہ ایک مسافر بس پر میزائل حملے میں چھ شہری جان سے گئے اور سات زخمی ہوئے۔ بس تعز سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے عبوری مرکز عدن جارہی تھی۔
ایک حکومتی عہدیدار نے بس پر حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا، تاہم دستیاب رپورٹ میں حوثی فریق کا اس مخصوص واقعے پر جواب یا آزادانہ فرانزک ثبوت شامل نہیں تھا۔ اس لیے حملہ آور کی شناخت کو حکومتی الزام کے طور پر ہی دیکھا جائے گا، حتمی ثابت شدہ نتیجے کے طور پر نہیں۔ ہلاک ہونے والے جنگجوؤں اور شہریوں کی مکمل نام وار فہرست بھی فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
تازہ لڑائی تعز اور بحیرۂ احمر کی جانب جانے والے راستوں کے قریب ہوئی۔ ایک حکومتی فوجی افسر کے مطابق حوثیوں نے ایک روز پہلے تعز کے نزدیک بعض پوزیشنیں سنبھال لی تھیں، جس کے بعد عدن سے مزید فوجی دستے پہنچے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی کارروائی کا مقصد حکومت کے زیرِ کنٹرول بندرگاہی شہر مخا کا رابطہ کاٹنا اور باب المندب آبنائے سے ملحق علاقوں کی طرف پیش قدمی کرنا ہے۔ یہ عسکری تشخیص حکومتی فریق سے منسوب ہے۔
اے ایف پی کے مختلف ذرائع سے مرتب کردہ اعداد کے مطابق جمعہ کی لڑائی میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد ہفتے کی جھڑپیں حالیہ برسوں کی شدید ترین لڑائی کے تسلسل کے طور پر سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق 2022 کی نازک جنگ بندی جولائی 2026 میں ٹوٹ گئی تھی اور اس کے بعد حملوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ لڑائی کسی نئی جامع امن مفاہمت یا باقاعدہ جنگ بندی کے اعلان کے بغیر جاری ہے۔
ایک یمنی فوجی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب نے تعز میں حوثیوں کے حال ہی میں قبضے میں لیے گئے مقامات پر تین فضائی حملے کیے۔ سعودی حکومت یا حوثی حکام کی جانب سے ان مخصوص حملوں کی الگ تفصیلی تصدیق دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔ حوثیوں نے اس سے قبل سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی اور سعودی جہازوں و علاقے کو نشانہ بنانے کا اعلان بھی کیا تھا۔
باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کے درمیان اہم بحری گزرگاہ ہے۔ خطے کی وسیع کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی رکاوٹ کے باعث اس راستے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اسی وجہ سے تعز، مخا اور باب المندب کے قریب فوجی پیش رفت یمن کی داخلی جنگ سے بڑھ کر علاقائی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی خطرات پیدا کرسکتی ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ خبر یہ ہے کہ یمنی فوجی و طبی ذرائع نے 26 حکومتی فوجیوں، 31 حوثی جنگجوؤں اور چھ شہریوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ لڑائی کی زمینی صورت حال، تمام ہلاکتوں کی شناخت اور بس پر حملے کی ذمہ داری کے بارے میں مکمل غیر جانب دار تحقیقات سامنے نہیں آئیں۔




