برلن: جرمنی ڈرون حملوں، سائبر مداخلت اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کے خلاف دفاع مضبوط کرنے کے لیے ایک جامع حفاظتی پیکج تیار کر رہا ہے۔ رائٹرز نے جرمن اخبار بلڈ ام زونٹاگ کے حوالے سے 6 ستمبر کو رپورٹ کیا کہ یہ منصوبہ گزشتہ ماہ لیپزگ/ہالے ائیرپورٹ پر ناکام ڈرون حملے کے بعد تیار کیا جا رہا ہے، جسے جرمن حکام روس سے منسلک ہائبرڈ سرگرمیوں کے وسیع تر خطرے کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ پیکج میں ڈرون سے ممکنہ حملوں، سائبر دراندازی اور اہم بنیادی ڈھانچے کے خلاف تخریب کاری سے نمٹنے کے اقدامات شامل ہوں گے۔ حکومت نے فوری طور پر مکمل تفصیلات عام نہیں کیں، اس لیے اس خبر میں کسی ایسے مخصوص قانون، بجٹ یا عملی اختیار کو شامل نہیں کیا جا رہا جو سرکاری طور پر تصدیق شدہ نہ ہو۔ دستیاب معلومات سے اتنا واضح ہے کہ برلن دفاعی اور داخلی سلامتی کے نظام کو زیادہ مربوط انداز میں اپ گریڈ کرنے پر غور کر رہا ہے۔

یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے کہ جرمن حکومت یکم ستمبر کو لیپزگ/ہالے ائیرپورٹ پر گزشتہ ماہ ہونے والی ڈرون حملے کی کوشش کی ذمہ داری روس پر عائد کر چکی ہے۔ جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے کہا تھا کہ پولیس تحقیقات، واردات کے طریقہ کار اور انٹیلی جنس معلومات کو ملا کر برلن اس نتیجے پر پہنچا کہ حملے میں روسی ریاستی اداروں سے منسلک عناصر شامل تھے۔ روس نے جرمنی کے الزامات کی تردید کی ہے اور انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔

ہائبرڈ خطرات کی اصطلاح عموماً ایسے اقدامات کے لیے استعمال ہوتی ہے جن میں سائبر حملے، ڈرون سرگرمیاں، جاسوسی، تخریب کاری، غلط معلومات یا اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا شامل ہو سکتا ہے۔ یورپی ممالک حالیہ برسوں میں توانائی کے نظام، مواصلاتی نیٹ ورکس، فضائی اڈوں، بندرگاہوں اور دیگر حساس مقامات کے تحفظ پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ جرمنی کے مجوزہ اقدامات بھی اسی وسیع تر سکیورٹی بحث کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔

لیپزگ/ہالے ائیرپورٹ جرمنی کے اہم کارگو مراکز میں شمار ہوتا ہے، اس لیے اس نوعیت کے واقعے نے فضائی تحفظ اور لاجسٹک نیٹ ورکس کے دفاع سے متعلق خدشات کو بڑھایا ہے۔ رائٹرز کے مطابق نئی حکمت عملی کا مقصد صرف ڈرون حملوں تک محدود نہیں بلکہ سائبر مداخلت اور دیگر ممکنہ تخریبی کارروائیوں کے خلاف بھی ریاستی صلاحیت بڑھانا ہے۔

جرمن حکومت کی جانب سے مجوزہ پیکج کی مکمل ساخت، منظوری کا ٹائم فریم اور عمل درآمد کے ذمہ دار اداروں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے فی الحال اسے حکومتی تیاری کے مرحلے میں موجود منصوبہ سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ نافذ شدہ قانون یا مکمل طور پر منظور شدہ سکیورٹی نظام۔