اسلام آباد: پاکستان نے شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ نیپال کے لیے 100 ٹن انسانی امداد روانہ کر دی ہے۔ وزارت خارجہ اور پاکستانی حکام کے مطابق امدادی سامان وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے اسلام آباد سے کھٹمنڈو بھیجا گیا، جبکہ امدادی کارروائی کی تنظیم اور ترسیل میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مرکزی کردار ادا کیا۔
امدادی کھیپ میں خیمے، کمبل، میٹس، حفظان صحت کی کٹس اور ادویات شامل ہیں جن کا مقصد بے گھر اور متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے میں نیپالی حکام کی مدد کرنا ہے۔ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سامان کی روانگی کے موقع پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک، نیپال کے سفیر اور متعلقہ اداروں کے حکام موجود تھے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیپال کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور مشکل وقت میں ممکنہ تعاون کے لیے تیار ہے۔ پاکستانی حکام نے امداد کو علاقائی انسانی تعاون کا حصہ قرار دیا ہے۔ نیپال میں حالیہ قدرتی آفت نے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان پہنچایا ہے اور متعدد علاقوں میں مکانات، سڑکوں اور پن بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
نیپالی حکام کے مطابق آفت کے بعد تلاش، امداد اور بحالی کی ضروریات بہت وسیع ہیں، جبکہ بین الاقوامی اداروں نے بھی متاثرہ آبادی کے لیے امدادی اپیلیں شروع کی ہیں۔ ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد سے متعلق اعداد مسلسل بدل رہے ہیں کیونکہ دور دراز علاقوں تک رسائی اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ اس لیے پاکستانی امداد کی خبر میں بنیادی طور پر ترسیل شدہ سامان اور سرکاری امدادی اقدام کی تصدیق پر توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان ماضی میں بھی جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں میں زلزلوں، سیلابوں اور دوسری قدرتی آفات کے بعد امدادی سامان بھیجتا رہا ہے۔ نیپال کے لیے موجودہ 100 ٹن کھیپ فوری ریلیف کے مرحلے کا حصہ ہے؛ متاثرہ علاقوں کی طویل مدتی بحالی اور تعمیر نو کے لیے نیپالی حکومت، بین الاقوامی اداروں اور شراکت دار ممالک کی مسلسل معاونت درکار ہوگی۔




