کراچی: وفاقی حکومت نے 750,000 میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) نے عالمی خریداری کے لیے ٹینڈر جاری کر دیا۔ درآمدی گندم صوبوں میں ان کی طلب اور ضروریات کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
ٹی سی پی کے ٹینڈر نوٹیفکیشن کے مطابق گندم 2026 کی تازہ فصل سے ہونی چاہیے اور اسے لاگت و فریٹ (CFR) بنیاد پر کراچی اور/یا گوادر بندرگاہ کے ذریعے بلک میں پاکستان پہنچایا جائے گا۔ ٹینڈر میں مقدار کے لیے مثبت یا منفی 10 فیصد MOLSO کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ عالمی سپلائرز کی ہر پیشکش کم از کم 50,000 میٹرک ٹن کی ہونی چاہیے؛ اس سے کم مقدار کی بولی قبول نہیں کی جائے گی۔
بولیاں 16 ستمبر 2026 کو صبح 11 بج کر 30 منٹ تک جمع کرائی جا سکتی ہیں اور تکنیکی بولیاں اسی روز دوپہر 12 بجے ٹی سی پی کے بورڈ روم میں کھولی جائیں گی۔ بولی دہندگان یا ان کے مجاز نمائندے کارروائی میں ذاتی طور پر یا آن لائن شرکت کر سکیں گے۔ ٹینڈر دستاویز میں خریداری کے طریقہ کار، بولی کی ضمانت، مدت، جانچ کے معیار، وضاحت یا مسترد کیے جانے اور پرفارمنس گارنٹی سے متعلق شرائط شامل ہیں۔
ٹی سی پی کے مطابق درآمد کی جانے والی مجموعی مقدار میں سے سندھ کو 300,000 ٹن، پنجاب کو 250,000 ٹن اور خیبرپختونخوا کو 200,000 ٹن گندم دی جائے گی۔ تقسیم کا یہ خاکہ صوبائی طلب اور ضروریات کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے۔
قومی سطح پر سالانہ گندم کی کھپت تقریباً 31.3 ملین ٹن بتائی گئی ہے۔ اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق ملک میں گندم کی پیداوار 29.61 ملین ٹن رہی۔ رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا کہ جولائی کے پہلے ہفتے تک پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن کے ذخائر میں 1.783 ملین ٹن گندم موجود تھی۔
درآمد کی منظوری اور ٹینڈر کا اجرا خریداری کے عمل کا آغاز ہے؛ اس مرحلے پر حتمی قیمت، کامیاب سپلائرز یا ہر کھیپ کی ترسیل کی تاریخ طے شدہ نتیجہ نہیں۔ یہ تفصیلات بولیوں کی جانچ اور معاہدوں کے بعد سامنے آئیں گی۔ حکومت کا موجودہ فیصلہ مقامی ضرورت اور دستیاب پیداوار کے فرق کو پورا کرنے کے لیے اضافی گندم منگوانے سے متعلق ہے، جبکہ اس کے مقامی قیمتوں اور سرکاری ذخائر پر اثرات کا جائزہ آنے والے مہینوں میں لیا جا سکے گا۔




