اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سردیوں سے قبل مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مبینہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کے خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں کو مربوط کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ ڈان کی 18 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا کو آگاہ کیا کہ درآمد کنندگان ملکی طلب کے مطابق ایل پی جی منگوا رہے ہیں، تاہم درآمد شدہ مقدار ٹرمینلز سے باقاعدگی کے ساتھ مارکیٹ تک پہنچتی دکھائی نہیں دے رہی۔

پیٹرولیم ڈویژن کے خط میں اس صورتحال کو ممکنہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت سے جوڑا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت بعض مقامات پر تقریباً 5 ہزار روپے تک بتائی گئی، جبکہ اوگرا کی نوٹیفائیڈ قیمت 3,296 روپے تھی۔ حکام نے خاص طور پر پہاڑی، دور دراز اور گیس گرڈ سے باہر علاقوں میں صارفین پر پڑنے والے اثرات پر تشویش ظاہر کی، جہاں سردیوں میں ایل پی جی کی ضرورت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے کہا ہے کہ وہ درآمدی ایل پی جی کی باقاعدہ لفٹنگ اور طلب والے مراکز تک فراہمی یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔ اوگرا سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ صارفین کو نوٹیفائیڈ نرخوں پر ایل پی جی کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے ضروری نفاذی کارروائی کی جائے۔ رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتوں اور بندرگاہی آپریشنز و کلیئرنس سے متعلق وفاقی اداروں کو بھی اصلاحی اقدامات میں شامل کیا گیا ہے۔

حکومت نے مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی تقسیم کے نظام میں بھی شفافیت اور مسابقت بڑھانے کو اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق مقامی پیداوار کو شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کے ذریعے مارکیٹ میں لانے کی تجویز کا مقصد چند کاروباری اداروں میں ارتکاز کم کرنا، صنعت کو مساوی مواقع دینا اور دور دراز علاقوں کے لیے دستیابی بہتر بنانا ہے۔ تاہم اس مجوزہ طریقہ کار سے متعلق عدالتی کارروائی جاری ہونے کے باعث پیش رفت متاثر ہوئی ہے۔

ذخیرہ اندوزی کے بارے میں سرکاری خط میں خدشات اور رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے؛ اسے کسی مخصوص کمپنی کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کا موجودہ اقدام سپلائی چین کی نگرانی، مارکیٹ میں دستیابی اور سرکاری نرخوں کے نفاذ کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے، جبکہ کسی خلاف ورزی کی ذمہ داری متعلقہ ریگولیٹری یا قانونی کارروائی کے بعد ہی طے ہوگی۔