پاکستان کی خام غذائی مصنوعات کی برآمدات رواں مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں سالانہ بنیاد پر 25.31 فیصد بڑھ کر 1.388 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 1.108 ارب ڈالر تھیں۔ اضافے کی بڑی وجہ چاول کی برآمدی قدر میں نمایاں بہتری رہی۔
جولائی سے ستمبر کے دوران چاول کی مجموعی برآمدی قدر میں 55.89 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ باسمتی چاول کی برآمدی قدر 86.28 فیصد بڑھی جبکہ نان باسمتی چاول کی قدر میں 39.20 فیصد اضافہ ہوا۔ مقدار کے لحاظ سے بھی باسمتی کی برآمد 80.21 فیصد اور نان باسمتی کی 43.55 فیصد بڑھی۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ پہلی سہ ماہی میں غذائی برآمدات کی مجموعی نمو میں چاول کا حصہ بنیادی رہا۔
دیگر غذائی اشیا میں گوشت کی برآمدات سالانہ بنیاد پر 21.09 فیصد اور مچھلی و متعلقہ مصنوعات کی برآمدات 14.61 فیصد بڑھیں۔ تمباکو کی برآمدی قدر میں 44.21 فیصد اور مصالحہ جات میں 18.94 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے برعکس سبزیوں کی برآمدات 20.48 فیصد اور پھلوں کی برآمدات 30.62 فیصد کم ہوئیں، جس سے غذائی برآمدی شعبے کے اندر مختلف مصنوعات کی کارکردگی میں واضح فرق سامنے آتا ہے۔
اسی مدت میں غذائی درآمدات 3.44 فیصد بڑھ کر 2.330 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی میں 2.252 ارب ڈالر تھیں۔ درآمدی بل میں پام آئل سب سے بڑا جزو رہا، تاہم اس کی قدر 2.30 فیصد اور مقدار 13.75 فیصد کم ہوئی۔ دالوں کی درآمد میں 12.07 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ چائے کی درآمدی قدر 25.54 فیصد بڑھی۔
اعداد و شمار کا تقابل اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ مکمل مالی سال 2025-26 میں خام غذائی مصنوعات کی برآمدات 29.49 فیصد کم ہو کر 5.017 ارب ڈالر رہ گئی تھیں۔ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اضافہ اس پچھلی گراوٹ کے بعد آیا ہے، تاہم صرف تین ماہ کی کارکردگی کو پورے سال کے نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ آئندہ مہینوں میں عالمی قیمتیں، فصلوں کی دستیابی، برآمدی پالیسی اور بیرونی طلب سالانہ نتیجے پر اثر انداز ہوں گے۔
