کراچی: پاکستان کی مقامی سرکاری سکیورٹیز میں اکتوبر کے پہلے نو دن کے دوران 188 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے حکومتی بانڈ مارکیٹ میں بیرونی دلچسپی بڑھنے کے اشارے ملے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس مدت میں ٹریژری بلز میں 78 ملین ڈالر جبکہ طویل مدتی پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں 110 ملین ڈالر آئے۔
اعداد و شمار میں خلیجی ممالک کے سرمایہ کار نمایاں رہے۔ متحدہ عرب امارات سے 50 ملین ڈالر ٹی بلز اور 80 ملین ڈالر پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں لگائے گئے، جبکہ بحرین سے 30 ملین ڈالر پی آئی بیز اور 10 ملین ڈالر ٹی بلز میں سرمایہ کاری ریکارڈ ہوئی۔ یہ رجحان اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان میں ماضی کی زیادہ تر غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری مختصر مدت کے حکومتی کاغذات تک محدود رہی ہے۔
طویل مدتی بانڈز میں سرمایہ کاری کا بڑھنا سرمایہ کاروں کی شرح سود، افراطِ زر، شرح مبادلہ اور حکومتی قرض مارکیٹ سے متعلق توقعات کی عکاسی کر سکتا ہے، تاہم مختصر مدت کے ڈیٹا کو مستقل رجحان قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ پورٹ فولیو سرمایہ کاری نسبتاً تیزی سے داخل اور خارج ہو سکتی ہے، اس لیے اس کے فوائد کے ساتھ بیرونی مالیاتی حالات میں تبدیلی کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔
پاکستان حکومت طویل عرصے سے مقامی قرض مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کی کوشش کرتی رہی ہے تاکہ فنانسنگ کے ذرائع متنوع ہوں اور زرمبادلہ کی آمد کے اضافی راستے پیدا ہوں۔ حالیہ سرمایہ کاری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکام معاشی استحکام، بہتر بیرونی بفرز اور سرمایہ کار اعتماد میں بحالی پر زور دے رہے ہیں۔
آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا خلیجی سرمایہ کاروں کی دلچسپی برقرار رہتی ہے اور طویل مدتی پی آئی بیز میں مزید رقوم آتی ہیں یا نہیں۔ اس رجحان کا پائیدار ہونا ملکی شرح سود، مہنگائی، روپے کی قدر، عالمی مالیاتی حالات اور پاکستان کے مجموعی کریڈٹ رسک سے منسلک رہے گا۔

