بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے ستمبر 2026 کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے اضافی 2.5624 روپے فی یونٹ وصول کرنے کے لیے ریگولیٹری منظوری مانگ لی ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی نے ڈسکوز کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو درخواست جمع کرائی ہے۔

نیپرا نے اس درخواست پر عوامی سماعت 29 اکتوبر کو مقرر کی ہے۔ درخواست کے مطابق ستمبر کے لیے حوالہ جاتی فیول لاگت 7.4596 روپے فی یونٹ تھی، جبکہ حقیقی ایندھن سے متعلق اخراجات اس سطح سے زیادہ رہے، جس کے فرق کی بنیاد پر 2.5624 روپے فی یونٹ کی ایڈجسٹمنٹ طلب کی گئی ہے۔

یہ رقم ابھی حتمی طور پر صارفین پر لاگو نہیں ہوئی۔ نیپرا سماعت کے دوران سی پی پی اے اور تقسیم کار کمپنیوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار، بجلی کی پیداوار کے ذرائع، ایندھن کی قیمتوں اور متعلقہ سابقہ ایڈجسٹمنٹس کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا۔ ریگولیٹر درخواست کو مکمل، جزوی طور پر منظور یا دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر تبدیل کر سکتا ہے۔

حکومت کی یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت منظور شدہ ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین تک بھی پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے، تاہم اس کا حتمی دائرہ کار نیپرا کے فیصلے اور متعلقہ نوٹیفکیشن سے واضح ہوگا۔ ستمبر میں مہنگے ایندھن کے استعمال اور ایل این جی سے متعلق محدود دستیابی نے بجلی کی اوسط فیول لاگت پر دباؤ بڑھایا تھا۔

ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ ایک ریگولیٹری طریقہ ہے جس کے ذریعے حقیقی ایندھن لاگت اور پہلے سے مقرر حوالہ جاتی لاگت کے فرق کو بعد کے بلوں میں ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ صارفین کے بلوں پر حقیقی مالی اثر کا تعین نیپرا کی 29 اکتوبر کی سماعت اور اس کے بعد جاری ہونے والے حتمی فیصلے سے ہوگا، اس لیے موجودہ 2.5624 روپے فی یونٹ رقم کو درخواست شدہ اضافہ سمجھا جانا چاہیے، منظور شدہ ٹیرف نہیں۔