کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ مسلسل محتاط میکرو اکنامک پالیسیوں اور ساختی اصلاحات کے نتیجے میں پاکستانی معیشت کی داخلی اور خارجی جھٹکوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف غیر ملکی سرمایہ کاروں سے گفتگو کے دوران پیش کیا، جہاں پاکستان کی معاشی صورتحال، بیرونی کھاتوں اور مالی استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق حالیہ برسوں میں پالیسی فریم ورک کا بنیادی مقصد مہنگائی، بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی عدم توازن کو قابو میں لانا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے بفرز میں بہتری اور پالیسی نظم و ضبط نے معیشت کو عالمی اور علاقائی غیر یقینی صورتحال کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نسبتاً بہتر پوزیشن میں رکھا ہے۔

انہوں نے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ استحکام کے بعد پائیدار نمو کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔ اس میں مالیاتی نظم، پیداواری صلاحیت، برآمدی مسابقت اور نجی شعبے کے لیے بہتر کاروباری ماحول جیسے شعبے اہم ہیں۔ گورنر کے بیان کو مرکزی بینک کا پالیسی مؤقف سمجھا جانا چاہیے؛ معیشت کی عملی کارکردگی کا جائزہ مہنگائی، شرح نمو، روزگار، بیرونی کھاتے اور قرضوں سمیت متعدد اشاریوں سے کیا جاتا ہے۔

پاکستان حالیہ برسوں میں بلند مہنگائی، زرمبادلہ کی قلت، درآمدی پابندیوں اور بیرونی فنانسنگ کی ضروریات جیسے دباؤ سے گزرا ہے۔ اس پس منظر میں اسٹیٹ بینک کی توجہ قیمتوں کے استحکام اور مالیاتی نظام کے تحفظ پر رہی ہے۔ جمیل احمد نے اس بات پر زور دیا کہ حاصل ہونے والی بہتری کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات میں تسلسل ضروری ہوگا۔

سرمایہ کاروں کے لیے مرکزی سوال یہ ہے کہ آیا بہتر میکرو اکنامک بفرز نجی سرمایہ کاری، قرض کی لاگت اور معاشی سرگرمی میں مستقل بہتری میں تبدیل ہوتے ہیں یا نہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق پالیسی استحکام اور اصلاحات کا تسلسل اس منتقلی کے لیے بنیادی شرط ہے۔