اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سردیوں سے قبل مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی مبینہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی اداروں کو مربوط کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق درآمدی ایل پی جی ملکی طلب کے مطابق پہنچ رہی ہے، لیکن ٹرمینلز سے اس کی باقاعدہ اٹھان نہ ہونے کی اطلاعات نے ممکنہ ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں مصنوعی کمی کے خدشات پیدا کیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 11.8 کلوگرام گھریلو سلنڈر بعض مقامات پر تقریباً پانچ ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا، جبکہ اوگرا کی مقررہ قیمت 3,296 روپے تھی۔ قیمتوں کا یہ فرق خاص طور پر پہاڑی، دور دراز اور گیس گرڈ سے باہر علاقوں کے صارفین کے لیے اہم ہے، جہاں سردیوں میں ایل پی جی بنیادی ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی سے کہا ہے کہ ایل پی جی کی باقاعدہ اٹھان اور طلب کے مراکز تک فراہمی یقینی بنائی جائے اور مقررہ قیمتوں سے انحراف یا ذخیرہ اندوزی کی صورت میں ضروری نفاذی اقدامات کیے جائیں۔ اوگرا کی جانب سے صوبائی حکومتوں اور بندرگاہی و کلیئرنس سے متعلق وفاقی اداروں کو بھی فوری اصلاحی اقدامات کے لیے متحرک کیے جانے کی اطلاع ہے۔

حکومت نے مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی تقسیم کے لیے شفاف اور مسابقتی طریقہ کار کو بھی اپنی ترجیح قرار دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق اس کا مقصد مارکیٹ میں چند اداروں کے ارتکاز کو کم کرنا، تمام شرکا کو مساوی موقع دینا اور دور دراز علاقوں میں دستیابی بہتر بنانا ہے۔ اس مجوزہ نظام سے متعلق بعض معاملات عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں، اس لیے حتمی نفاذ قانونی پیش رفت سے بھی وابستہ ہے۔

ذخیرہ اندوزی کے الزامات اس مرحلے پر حکومتی خدشات اور تحقیقات کا موضوع ہیں، کسی مخصوص کمپنی کے خلاف حتمی قانونی نتیجہ رپورٹ نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ترجیح صارفین کو مناسب نرخ پر مسلسل فراہمی، مارکیٹ میں شفافیت اور سردیوں میں ممکنہ قلت سے بچاؤ ہے۔