کراچی: پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں ستمبر کے دوران کمی کے باوجود بینکوں کے واجب الادا آٹو قرضوں کا حجم مسلسل 22ویں ماہ بڑھتے ہوئے 407 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اگست میں آٹو فنانسنگ کا حجم 393.3 ارب روپے تھا، جس میں ستمبر کے دوران مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کی ستمبر میں کاروں، ایس یو ویز، پک اپس اور وینز کی مجموعی فروخت 15,104 یونٹس رہی۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 12 فیصد اور اگست کے مقابلے میں 3 فیصد کم ہے۔ صنعت سے متعلق رپورٹ میں فروخت کی سست روی کو نئی آٹو پالیسی میں تاخیر سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور ہائبرڈ گاڑیوں پر جنرل سیلز ٹیکس سے متعلق ابتدائی ابہام سے جوڑا گیا ہے۔
ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے بعد میں 2,000 سی سی تک کے ماڈلز پر جی ایس ٹی 18 فیصد طے کیا گیا، جو اس سے پہلے زیر بحث 25 فیصد شرح سے کم ہے۔ پالیسی اور ٹیکس سے متعلق وضاحت کے باوجود ستمبر کی ماہانہ فروخت میں کمی رہی، تاہم مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی آٹو سیلز سالانہ بنیاد پر 19 فیصد بڑھ کر 50,480 یونٹس تک پہنچ گئیں۔
آٹو قرضوں میں مسلسل اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بینک فنانسنگ کے ذریعے گاڑی خریدنے کی طلب مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ تاہم اس شعبے کی رفتار شرح سود سے براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ ستمبر میں اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جبکہ حالیہ ہفتوں میں کراچی انٹربینک آفرڈ ریٹ، یعنی کائبور، میں کچھ اضافہ دیکھا گیا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق آٹو فنانسنگ میں مزید اضافہ ممکن ہے، لیکن بلند قرض لاگت اور نئی آٹو پالیسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث رفتار نسبتاً سست رہ سکتی ہے۔ قرض کی ماہانہ قسط، گاڑی کی قیمت، بینکوں کی فنانسنگ شرائط اور شرح سود صارفین کے فیصلوں میں اہم عوامل رہیں گے۔
ستمبر کے اعدادوشمار میں دو مختلف رجحانات ایک ساتھ نظر آتے ہیں: ایک طرف ماہانہ اور سالانہ بنیاد پر نئی گاڑیوں کی فروخت میں کمی، اور دوسری طرف مجموعی واجب الادا آٹو قرضوں میں اضافہ۔ پورے مالی سال کی صنعت کی سمت کا انحصار پالیسی وضاحت، شرح سود، گاڑیوں کی قیمتوں اور صارفین کی قوت خرید پر ہوگا۔

