پاکستان نے ایران کے ساتھ گبد رمدان اور تفتان کی سرکاری سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔ ڈان کے مطابق وزارت تجارت نے 17 اکتوبر کو ایک یادداشت کے ذریعے 3 اکتوبر کا سابقہ حکم فوری طور پر واپس لے لیا، جس کے نتیجے میں دونوں راستوں سے تجارتی آمدورفت رک گئی۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں سکیورٹی اور سرحدی انتظام سے متعلق خدشات پر توجہ بڑھ رہی ہے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند نے کہا کہ عارضی بندش کا مقصد سکیورٹی خدشات سے نمٹنا، اسمگلنگ روکنا اور سرحدی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام انتظامی معاملات حل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں اور سرحد جلد دوبارہ کھلنے کی توقع ہے۔ ان کے مطابق سرحدی امور بہتر بنانے اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کے لیے مربوط نظام پر کام جاری ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی بندش کو عارضی قرار دیا، تاہم ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے اس کی وجہ تکنیکی مسائل بتائی۔ اس طرح دونوں جانب سے بندش کے عارضی ہونے پر اتفاق نظر آتا ہے، البتہ اسباب کی وضاحت میں فرق موجود ہے۔ متعلقہ حکام نے تجارت کی مکمل بحالی کے لیے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی۔

کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تاجروں کو اگلے نوٹس تک نئے درآمدی اور برآمدی آرڈر دینے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایل پی جی، چاول، تازہ پھل اور دیگر اشیا لے جانے والی سینکڑوں مال بردار گاڑیاں سرحد کے دونوں طرف پھنسنے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق رمدان گبد کراسنگ پر مسافروں کی آمدورفت جاری ہے، جبکہ تجارتی آپریشن روکے گئے ہیں۔

گبد رمدان حالیہ عرصے میں پاکستان کی توانائی ضروریات، خصوصاً ایل پی جی درآمدات، کے لیے اہم راستہ بن چکا ہے، جبکہ اسی راستے سے پاکستانی چاول سمیت مختلف مصنوعات ایران بھیجی جاتی ہیں۔ تجارتی اور توانائی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بندش طویل ہوئی تو کراچی اور دیگر علاقوں میں ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ فی الحال یہ خدشات ممکنہ اثرات ہیں؛ حقیقی قیمت یا رسد میں تبدیلی کا انحصار بندش کے دورانیے اور متبادل سپلائی انتظامات پر ہوگا۔