اسلام آباد: پاکستان نے مین لائن ون ریلوے اپ گریڈیشن منصوبے کے پہلے مرحلے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے تقریباً 2 ارب ڈالر کی ممکنہ فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے بات چیت آگے بڑھا دی ہے۔ یہ معلومات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے اجلاس میں دی گئیں، جہاں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق ایم ایل ون کے پہلے مرحلے میں کراچی سے روہڑی تک تقریباً 480 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ یہ کام مجموعی طور پر تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری سے منسلک ایم ایل ون منصوبے کا حصہ ہے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اے ڈی بی کے ساتھ قرض اور منصوبے کی فنانسنگ کے ممکنہ ڈھانچے پر بات چیت جاری ہے۔

ایم ایل ون پاکستان کے مرکزی ریلوے نیٹ ورک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اور کراچی کو ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں سے ملاتا ہے۔ منصوبے کا مقصد پٹری، سگنلنگ، پلوں اور متعلقہ ریلوے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے تاکہ رفتار، حفاظت اور مسافر و مال برداری کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں صرف ایم ایل ون ہی نہیں بلکہ سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6، پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے منتخب منصوبوں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور کراچی کے انفراسٹرکچر سے متعلق امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت متعدد بڑے منصوبوں کے لیے مالی اور انتظامی بندوبست کو ایک ساتھ آگے بڑھا رہی ہے۔

اے ڈی بی کی 2 ارب ڈالر فنانسنگ ابھی حتمی منظور شدہ قرض کے طور پر پیش نہیں کی گئی بلکہ مذاکرات اور ممکنہ مالی معاونت کے مرحلے میں ہے۔ رقم کے اجرا، شرائط اور ٹائم لائن کے لیے مزید منظوریوں اور معاہدوں کی ضرورت ہوگی۔ اس لیے موجودہ پیش رفت کو فنانسنگ کے حصول کی سمت ایک اہم مرحلہ سمجھا جا سکتا ہے، حتمی مالی بندش نہیں۔