اسلام آباد: پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے کراچی سے پشاور تک مین لائن-1 ریلوے کی مجوزہ اپ گریڈیشن کے جلد سنگِ بنیاد اور 2026 سے 2030 کے لیے نئی ملکی شراکت حکمتِ عملی کے ترجیحی شعبوں پر بات چیت کی ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اے ڈی بی کے نائب صدر برائے جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا ینگ منگ یانگ سے ملاقات میں منصوبے پر کام جلد شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
وزیراعظم آفس کے بیان پر مبنی ریڈیو پاکستان اور بزنس ریکارڈر کی رپورٹس کے مطابق اجلاس میں ایم ایل-1 کو قومی انفراسٹرکچر کی اہم ترجیح قرار دیا گیا۔ موجودہ مرکزی ریلوے لائن کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,733 کلومیٹر پھیلی ہوئی ہے اور کوٹری، حیدرآباد، روہڑی، ملتان، لاہور اور راولپنڈی سمیت بڑے شہروں کو جوڑتی ہے۔ اس کی اپ گریڈیشن چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بڑے منصوبوں میں بھی شامل رہی ہے۔
وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ ایم ایل-1 کی جدید کاری سے مال برداری کے نظام، علاقائی تجارتی رابطوں اور صنعتی منصوبوں کو سہارا مل سکتا ہے۔ اجلاس میں جلد سنگِ بنیاد کی ضرورت زیرِ بحث آئی، تاہم جاری سرکاری بیان میں تعمیر شروع کرنے کی حتمی تاریخ، پہلے مرحلے کی منظوری، ٹھیکے، لاگت، مالی بندوبست یا اے ڈی بی کی مخصوص قرض رقم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے ملاقات کو مکمل فنانسنگ یا عملی تعمیراتی معاہدہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
فریقین نے پاکستان اور اے ڈی بی کی طویل مدتی ترقیاتی شراکت کا جائزہ لیتے ہوئے کنٹری پارٹنرشپ اسٹریٹیجی 2026–2030 کے تحت آئندہ ترجیحات پر بھی گفتگو کی۔ بیان میں نجی شعبے کے فروغ، توانائی و غذائی تحفظ، برآمدی مسابقت، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ممکنہ مشترکہ تعاون کے شعبوں میں شامل کیا گیا۔ ان شعبوں میں ہر منصوبے کی نوعیت، مالی حجم اور عمل درآمد کا نظام الگ منظوریوں اور دستاویزات سے طے ہوگا۔
وزیراعظم نے حکومت کی مالی، ساختی اور انتظامی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان اقدامات سے معاشی استحکام، سرمایہ کاروں کا اعتماد اور بڑی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کے آؤٹ لک میں بہتری آئی ہے۔ یہ حکومت کا معاشی جائزہ ہے۔ کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی کا حتمی پیمانہ منظوری، مالیاتی پائیداری، بروقت تکمیل اور مسافروں و مال برداری کے لیے حاصل ہونے والے قابلِ پیمائش نتائج ہوں گے۔
سرکاری بیان کے مطابق انتظامی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مخصوص ایگزیکیوشن ٹاسک فورسز کام کر رہی ہیں۔ اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے نئی شراکت حکمتِ عملی کی ترجیحات کو عملی اور زیادہ اثر رکھنے والے نتائج میں بدلنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ یہ سیاسی و ادارہ جاتی ارادہ ہے؛ اس کے بعد منصوبہ وار مذاکرات، تکنیکی جانچ، مالی منظوری اور خریداری کے مراحل درکار ہوں گے۔
ایم ایل-1 پر برسوں سے مختلف مالی اور تکنیکی خاکے زیرِ غور رہے ہیں، اس لیے تازہ ملاقات کی اصل اہمیت یہ ہے کہ حکومت نے اے ڈی بی کے ساتھ اسے 2026–30 ترقیاتی ایجنڈے میں مرکزی موضوع بنایا۔ اگلی قابلِ تصدیق پیش رفت وہ ہوگی جب حکومت یا بینک باضابطہ طور پر منصوبے کے مرحلے، مالیاتی حصہ، ٹائم لائن یا سنگِ بنیاد کی تاریخ جاری کریں گے۔




