پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کے نمائندوں نے ترکی کے شہر استنبول میں کئی روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد موجودہ جنگ بندی برقرار رکھنے اور اس پر عمل درآمد کی نگرانی کیلئے طریقہ کار بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ مذاکرات ترکی اور قطر کی سہولت کاری میں ہوئے اور ان کا بنیادی مقصد سرحدی کشیدگی کو دوبارہ مسلح تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنا اور پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے سرحد پار دہشت گردی کے خدشات پر قابل عمل انتظام طے کرنا تھا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے مذاکرات کے بعد جاری بیان کے مطابق دونوں فریق جنگ بندی جاری رکھنے پر متفق ہوئے۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی کی نگرانی اور اس کی خلاف ورزی پر کارروائی کیلئے ایک مانیٹرنگ اور ویریفکیشن میکانزم قائم کرنے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ اس نظام کی تفصیلات آئندہ مرحلے میں طے کی جائیں گی اور فریقین نومبر کے اوائل میں دوبارہ اعلیٰ سطحی بات چیت کیلئے ملیں گے۔

استنبول مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں حالیہ جھڑپوں کے بعد تعلقات شدید دباؤ کا شکار تھے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک عناصر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کیلئے استعمال کرتے ہیں اور کابل کی انتظامیہ کو ان گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کرنا چاہئیں۔ افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کی بعض جہتوں سے اختلاف کرتی رہی ہے اور اپنی سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا مؤقف پیش کرتی ہے۔

مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے سرحد پار عسکریت پسندی کو مرکزی مسئلے کے طور پر اٹھایا۔ بات چیت کئی دن جاری رہی اور بعض مراحل پر پیش رفت کے بارے میں غیر یقینی صورت حال بھی سامنے آئی، تاہم ترکی اور قطر کی ثالثی کے بعد فریقین نے جنگ بندی کے تسلسل اور آئندہ مذاکرات پر اتفاق کیا۔ یہ اتفاق مکمل سیاسی تصفیہ نہیں بلکہ کشیدگی کو محدود رکھنے اور اختلافی امور پر بات چیت جاری رکھنے کا انتظام ہے۔

ترک وزارت خارجہ کے مطابق فریقین نے امن برقرار رکھنے اور خلاف ورزیوں کی روک تھام کیلئے اصولی سمجھوتا کیا ہے۔ آئندہ اجلاس میں نگرانی کے طریقہ کار، ذمہ داریوں اور ممکنہ خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے عملی پہلوؤں کو مزید واضح کیے جانے کی توقع ہے۔ پاکستان کیلئے اس عمل کا اہم پیمانہ سرحد پار حملوں میں عملی کمی اور عسکریت پسند گروہوں کے خلاف قابل تصدیق اقدامات ہوں گے۔

استنبول میں طے پانے والا اتفاق فوری طور پر تمام دوطرفہ تنازعات ختم نہیں کرتا۔ اس کے باوجود حالیہ کشیدگی کے تناظر میں جنگ بندی برقرار رکھنے، ثالث ممالک کی موجودگی میں رابطہ جاری رکھنے اور نگرانی کا نظام بنانے پر رضامندی دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مزید تصادم روکنے کیلئے ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔