پاکستان اور افریقی ممالک نے پاکستان-افریقہ اقتصادی کونسل (PAEC) کے باضابطہ آغاز کے موقع پر دوطرفہ اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور تجارت کو 2030 تک 15 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی تقریب میں سرکاری، سفارتی اور کاروباری حلقوں کے نمائندوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور طویل مدتی اقتصادی شراکت داری بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ریڈیو پاکستان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق تقریب میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں جانب نجی شعبے، چیمبرز آف کامرس، سرمایہ کار اور کاروباری ادارے زیادہ قریب آ کر نئی منڈیوں اور مشترکہ منصوبوں پر کام کریں۔ کونسل کا مقصد پاکستان اور افریقی ممالک کے درمیان موجود تجارتی امکانات کو زیادہ منظم انداز میں استعمال کرنا اور سرمایہ کاری کے لیے عملی روابط پیدا کرنا ہے۔

تقریب میں مختلف افریقی ملکوں کے سفارتی نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ پاکستانی مقررین نے زراعت، ٹیکسٹائل، ادویات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، معدنیات و کان کنی، تعلیم، خوراک اور انفراسٹرکچر جیسے شعبوں کو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے لیے اہم قرار دیا۔ کونسل کے منتظمین کے مطابق ان شعبوں میں پاکستان کو برآمدات، خدمات اور مشترکہ کاروباری منصوبوں کے نئے مواقع مل سکتے ہیں۔

PAEC کے آغاز سے قبل بھی کونسل نے اپنی حکمت عملی میں افریقی منڈیوں تک پاکستانی کاروباری اداروں کی رسائی بہتر بنانے اور کاروباری وفود و منصوبہ جاتی شراکت داری کو فروغ دینے کا اعلان کیا تھا۔ اب افتتاحی تقریب میں 15 ارب ڈالر کی تجارت کا ہدف دوبارہ نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ ایک پالیسی اور کاروباری ہدف ہے؛ دستیاب رپورٹس میں ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا کہ اس سطح کی تجارت پہلے ہی حاصل ہو چکی ہے۔

شرکا نے باہمی سرمایہ کاری کے فروغ اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے غیر استعمال شدہ اقتصادی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے پر بھی زور دیا۔ کاروباری نمائندوں نے اس بات کو اہم قرار دیا کہ پاکستان اپنی برآمدی منڈیوں کو متنوع کرے اور افریقی ممالک کے ساتھ روایتی سفارتی تعلقات کو زیادہ مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرے۔

کونسل کے لیے اصل امتحان اب اس ہدف کو قابل پیمائش تجارتی نتائج میں بدلنا ہوگا۔ موجودہ اعلان میں کسی مخصوص تجارتی معاہدے، سرمایہ کاری کی حتمی مالیت یا ملک وار لازمی اہداف کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے 15 ارب ڈالر کا عدد 2030 کے لیے طے کردہ مشترکہ تجارتی ہدف کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔