وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات کے پیش نظر موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے نئی خصوصی فیول ریلیف اسکیم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق اس اسکیم کا مقصد حالیہ قیمتوں کے اضافے کا بوجھ کم آمدنی اور محدود ایندھن استعمال کرنے والے صارفین پر کم کرنا ہے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت ملے گی، جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے لیے یہ رعایت ماہانہ 30 لیٹر کے کوٹے تک ہوگی۔ یعنی اسکیم کھلی یا غیر محدود سبسڈی نہیں بلکہ مخصوص مقدار تک ہدفی ریلیف پر مبنی ہے۔
وزیراعظم آفس نے بتایا کہ اسکیم اسلام آباد میں 15 ستمبر کی رات 12 بجے سے نافذ ہوگی، جبکہ ملک کے باقی حصوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 17 ستمبر کی رات 12 بجے سے ریلیف فراہم کرنے کا پروگرام ہے۔ رجسٹریشن کا عمل 13 ستمبر سے شروع کر دیا گیا ہے اور حکومت نے کہا ہے کہ درخواست اور رجسٹریشن کا طریقہ آگاہی مہم کے ذریعے عوام تک پہنچایا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے 12 ستمبر سے پٹرول کی قیمت 375 روپے 82 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 403 روپے 32 پیسے فی لیٹر مقرر کی۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع، سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن پر حملے اور علاقائی سپلائی روٹس میں رکاوٹوں نے عالمی تیل مارکیٹ پر دباؤ بڑھایا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی ہدفی اسکیم اسی بیرونی قیمت کے دباؤ کے اثرات کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
وفاقی حکومت رواں سال اپریل میں بھی موٹر سائیکل اور ٹرانسپورٹ صارفین کے لیے ہدفی فیول سپورٹ پروگرام چلا چکی ہے، تاہم موجودہ اعلان ایک تازہ اسکیم ہے جس کے نفاذ کی نئی تاریخیں، ماہانہ کوٹے اور 800 سی سی تک چھوٹی گاڑیوں کی واضح شمولیت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے اسے سابق پروگرام کی محض تکرار نہیں بلکہ ستمبر میں شروع ہونے والے نئے مرحلے کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
ابھی دستیاب اعلان میں اسکیم کی مجموعی مالی لاگت، متوقع مستفید افراد کی حتمی تعداد یا یہ رعایت کتنے مہینے جاری رہے گی، واضح نہیں کیا گیا۔ ان نکات کی سرکاری وضاحت سامنے آنے تک کسی اضافی تخمینے کو خبر کا حصہ نہیں بنایا جا رہا۔




