وفاقی حکومت نے ملک میں گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 9 ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے درآمدی خریداری کے لیے بولیاں طلب کر لی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حاصل ہونے والی گندم صوبوں میں ان کی طلب اور ضروریات کے مطابق تقسیم کی جائے گی۔
گندم پاکستان کی بنیادی غذائی اجناس میں شامل ہے، اس لیے اس کی درآمد کا فیصلہ قیمتوں، سرکاری ذخائر اور صوبائی ضرورت کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ درآمدی مقدار 750,000 ٹن بتائی گئی ہے، تاہم خریداری کی حتمی لاگت بولیوں، عالمی قیمتوں، فریٹ اور دیگر تجارتی شرائط کے بعد واضح ہوگی۔ ٹی سی پی کا ٹینڈر عمل اسی قیمت اور سپلائی کے تعین کا اہم مرحلہ ہے۔
صوبوں میں طلب کے مطابق تقسیم کا طریقہ اس لیے اہم ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں پیداوار، سرکاری ذخائر اور کھپت کی صورتحال یکساں نہیں ہوتی۔ وفاقی سطح پر درآمد کے بعد عملی ترسیل، ذخیرہ اور صوبائی کوٹے مارکیٹ میں آٹے اور گندم کی دستیابی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ تاہم محض درآمد کی منظوری کو فوری طور پر صارف قیمتوں میں کمی کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔
درآمدی فیصلوں میں مقامی کسانوں کے مفادات بھی اہم پالیسی پہلو ہیں۔ اگر بیرونی گندم ایسے وقت یا قیمت پر مارکیٹ میں آئے جب مقامی فصل کی فروخت جاری ہو تو اس کے مقامی نرخوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب رسد کی کمی یا ذخائر کے دباؤ کی صورت میں درآمد قیمتوں اور دستیابی کو مستحکم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
اب توجہ ٹی سی پی کے ٹینڈر نتائج، درآمدی قیمت، شپمنٹ شیڈول اور صوبوں کو مختص مقدار پر ہوگی۔ ان تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد ہی اس فیصلے کے مالی بوجھ اور مقامی گندم مارکیٹ پر ممکنہ اثرات کا زیادہ مکمل جائزہ لیا جا سکے گا۔




