پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کے بین الحکومتی گروپ جی 24 کی چیئرمین شپ سنبھال لی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس ذمہ داری کو ترقی پذیر معیشتوں کی اجتماعی آواز مضبوط بنانے اور زیادہ منصفانہ، مؤثر اور ترقی پر مبنی عالمی مالیاتی نظام کے لیے کام کرنے کا موقع قرار دیا ہے۔ جی 24 کا قیام 1971 میں بین الاقوامی مالیاتی اور مانیٹری معاملات پر ترقی پذیر ممالک کے مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے عمل میں آیا تھا۔

وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سطح پر موسمیاتی جھٹکوں، ترقیاتی مالیات کی کمی اور اقتصادی تقسیم جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے بین الاقوامی تعاون، مضبوط کثیرالجہتی اداروں اور مؤثر عالمی وعدوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتیں عالمی سرمایہ کاری، اختراع، کاروباری سرگرمی اور معاشی نمو میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

پاکستان نے اپنی چیئرمین شپ کے دوران تین بنیادی ترجیحات بیان کی ہیں۔ پہلی ترجیح عالمی اقتصادی پالیسی میں ترقی کو مرکزی حیثیت دینا ہے، جس کے لیے معاشی استحکام کو سرمایہ کاری، پیداوار، روزگار اور مشترکہ خوشحالی کی بنیاد بنانے پر زور دیا گیا۔ دوسری ترجیح کثیرالجہتی نظام میں زیادہ منصفانہ حکمرانی، فیصلہ سازی میں بامعنی نمائندگی اور بریٹن ووڈز اداروں کو رکن ممالک کی بدلتی ضروریات کے لیے زیادہ جواب دہ بنانا ہے۔

تیسری ترجیح بروقت اور قابل برداشت ترقیاتی مالیات، پائیدار قرض حل، مضبوط عالمی مالیاتی حفاظتی انتظامات، موسمیاتی لچک اور سرکاری و نجی سرمایہ متحرک کرنے سے متعلق ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان جی 24 کے افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکا اور کیریبین کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر شراکت داروں سے مل کر مشترکہ ترجیحات کو عملی نتائج میں بدلنے کی کوشش کرے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جی 24 کی چیئرمین شپ کو اہم سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام میں ضروری اصلاحات، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے منصفانہ مالی معاونت اور ابھرتی معیشتوں کے لیے پائیدار ترقی کے مواقع کی وکالت میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستان نے سبکدوش ہونے والے چیئرمین نائجیریا کی قیادت کو بھی سراہا اور گروپ کی اجتماعی آواز کو عملی ترقیاتی نتائج سے جوڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔