وفاقی حکومت نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے دستیاب ریکارڈ کے مطابق گزشتہ تین برس میں کوئی کثیرالقومی آٹو کمپنی پاکستان سے نہیں نکلی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے سوال کے جواب میں کہا کہ ای ڈی بی صرف آٹو موٹیو شعبے کو ریگولیٹ کرتا ہے اور اسی شعبے کے ریکارڈ کی بنیاد پر یہ جواب دیا گیا۔

اس بیان کی حد کو واضح رکھنا ضروری ہے۔ یہ نتیجہ پورے کارپوریٹ شعبے یا پاکستان میں کام کرنے والی ہر غیر ملکی کمپنی کے بارے میں نہیں، بلکہ ای ڈی بی کے زیرِ نگرانی آٹو شعبے اور بیان کردہ تین سالہ مدت سے متعلق ہے۔ کمپنیوں کی بندش یا قانونی حیثیت کا وسیع تر ریکارڈ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے پاس جبکہ سرمایہ کاری سہولت کا دائرہ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے پاس بتایا گیا۔

مشیر نے کہا کہ معاشی پالیسیوں اور سرمایہ کاروں کے لیے مراعات سے مزید سرمایہ کاری کی توقع ہے۔ یہ حکومت کا پالیسی مؤقف اور مستقبل کی توقع ہے، کسی نئے پلانٹ، مخصوص سرمایہ کاری رقم یا ملازمتوں کے فوری اضافے کا ثبوت نہیں۔ آٹو صنعت کی عملی صحت جانچنے کے لیے پیداوار، فروخت، مقامی پرزہ سازی، قیمت، برآمد، روزگار اور سپلائر ادائیگیوں کے الگ اعداد و شمار بھی دیکھنا ہوں گے۔

سینیٹ جواب میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے ملازمین کے لیے علیحدگی پیکیج کا ذکر بھی کیا گیا۔ ہارون اختر کے مطابق مستقل ملازمین کے لیے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم تیار کی جانی تھی، جبکہ کنٹریکٹ اور یومیہ اجرت والے ملازمین کے لیے معاوضہ پیکیج وفاقی کابینہ سے منظور ہوا۔ یہ معاملہ آٹو کمپنیوں کے ریکارڈ سے الگ سرکاری ادارے کی افرادی قوت کا موضوع ہے اور اسے دونوں خبروں کے درمیان براہِ راست تعلق نہیں سمجھنا چاہیے۔

پاکستان اسٹیل ملز کے بارے میں مشیر نے بتایا کہ ادارہ 2007–08 تک مجموعی طور پر 9.54 ارب روپے منافع میں تھا، مگر 2008–09 کے بعد عالمی کساد بازاری، خام مال اور مال برداری کی بلند لاگت، روپے کی قدر میں کمی اور دیگر عوامل کے باعث بھاری نقصانات ہوئے۔ یہ سرکاری وضاحت ہے؛ موجودہ جواب میں آڈٹ شدہ تازہ مالی حالت، واجبات یا بحالی کے نئے شیڈول کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔

آٹو شعبے سے کمپنی کے نہ نکلنے کا ریکارڈ سرمایہ کاری کے تسلسل کا ایک اشاریہ ہے، مگر مکمل کارکردگی کا متبادل نہیں۔ اردو ہیڈ لائنز کسی کمپنی کی ملکیت، پیداوار روکنے، پلانٹ کی استعداد یا نئی سرمایہ کاری کے دعوے کو متعلقہ کمپنی، ای ڈی بی، ایس ای سی پی یا مالیاتی رپورٹ کے ساتھ الگ طور پر جانچے گا۔ موجودہ رپورٹ صرف سینیٹ میں پیش کردہ دائرہ بند جواب اور اس کے واضح ادارہ جاتی حدود بیان کرتی ہے۔