پاکستان میں مالدیپ کے ہائی کمشنر محمد تھوہا نے دونوں ملکوں کے درمیان کاروبار، سرمایہ کاری اور سیاحت کے عملی روابط بڑھانے پر زور دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق انہوں نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں کاروباری نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوستانہ سفارتی تعلقات کو قابلِ پیمائش تجارتی اور سرمایہ کاری مواقع میں بدلا جانا چاہیے۔
ہائی کمشنر نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست یا چارٹر فضائی رابطے کی اہمیت بیان کی تاکہ سیاحوں، کاروباری مسافروں اور تجارتی وفود کی آمدورفت آسان ہو۔ یہ ایک تجویز اور ترجیح ہے؛ موجودہ خبر میں کسی فضائی کمپنی، روٹ، آغاز کی تاریخ یا ریگولیٹری منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے طے شدہ نئی پرواز کے بجائے کاروباری مطالبے کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے سیاحت، مہمان نوازی، ماہی گیری، ٹونا اور سمندری غذا، بلیو اکانومی، بحری مہارت، زراعت اور اسلامی سیاحت کو تعاون کے ممکنہ شعبے قرار دیا۔ مالدیپ میں زرعی ترقی اور غذائی تحفظ سے متعلق مواقع کا بھی ذکر ہوا۔ کسی مخصوص منصوبے، سرمایہ کاری رقم، کمپنی معاہدے یا برآمدی آرڈر کی تصدیق موجودہ نشست میں نہیں ہوئی۔
اسلام آباد چیمبر کے صدر سردار طاہر محمود نے کہا کہ مالدیپ سالانہ 24 لاکھ سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور پاکستانی کاروبار وہاں مصنوعات اور خدمات کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی ممکنہ برآمدات اور موجودہ کم سطح کا ذکر کیا، مگر خبر میں مکمل دوطرفہ تجارتی جدول یا سرکاری کسٹمز اعداد شامل نہیں۔ ان تخمینوں کی حتمی جانچ سرکاری تجارت کے تازہ ڈیٹا سے ہونی چاہیے۔
چیمبر نے مالدیپ کے کاروباری وفود کو نومبر 2026 کے ٹی ڈی اے پی خوراک و زراعت ایونٹ، 2 اپریل 2027 کی ٹیکسٹائل نمائش اور 2027 کے خواتین کاروباری نیٹ ورک پروگرام میں شرکت کی دعوت دی۔ یہ دعوتیں رابطہ سازی کے مواقع ہیں، خود بخود معاہدہ یا فروخت نہیں۔ عملی نتیجے کے لیے کمپنیوں کے درمیان مذاکرات، معیار، لاجسٹکس، ادائیگی اور مارکیٹ رسائی کی شرائط طے ہونا ضروری ہوگا۔
کاروباری تعاون کی پیش رفت کو آئندہ براہ راست فضائی رابطے، وفود کی شرکت، تجارتی معاہدوں، سرمایہ کاری منصوبوں اور حقیقی برآمدی اعداد سے جانچا جا سکے گا۔ اردو ہیڈ لائنز کسی مفاہمت، روٹ یا تجارتی رقم کو تبھی حتمی پیش رفت کہے گا جب متعلقہ حکومت، ریگولیٹر، چیمبر یا کمپنی باضابطہ تفصیل جاری کرے۔ موجودہ رپورٹ اسلام آباد کی نشست میں پیش کی گئی ترجیحات اور دعوتوں تک محدود ہے۔




