اسلام آباد/کراچی: حکومت کی مجوزہ آٹوموٹیو اور آٹو پارٹس پالیسی 2026-31 میں الیکٹرک اور نئی توانائی والی گاڑیوں کے لیے ترجیحی ٹیکس شرحیں، درآمدی ٹیرف میں مرحلہ وار کمی، مقامی پیداوار میں اضافے اور پانچ سال میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف شامل کیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پالیسی کے مسودے کی اصولی منظوری دی ہے، تاہم اسے حتمی منظوری کے مزید سرکاری اور پارلیمانی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
مسودے کے مطابق بیٹری الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس ایک فیصد رکھنے، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں پر 6 فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر 9 فیصد سیلز ٹیکس تجویز کیا گیا ہے۔ روایتی ہائبرڈ اور اندرونی احتراقی انجن والی گاڑیوں کے لیے عمومی شرح 18 فیصد رہنے کی تجویز ہے۔ چھوٹی الیکٹرک گاڑیوں، جن کی درآمدی قدر 15 ہزار ڈالر سے کم ہو، کے لیے ابتدائی دو برس میں کم ٹیرف کی تجویز بھی شامل ہے۔
پالیسی میں نئی توانائی والی گاڑیوں کی فنانسنگ کی حد 30 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے اور قرض کی مدت تین سے پانچ سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کا مقصد صارفین کے لیے برقی گاڑیوں تک رسائی آسان بنانا بتایا گیا ہے۔ دوسری جانب زیادہ قیمت والی الیکٹرک گاڑیوں اور بڑے انجن والی روایتی گاڑیوں پر زیادہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مراعات کم قیمت اور کم اخراج والی گاڑیوں کی طرف مرکوز رہیں۔
مسودے میں آٹو سیکٹر کے لیے پانچ سال میں تقریباً 6.01 ارب ڈالر کی برآمدات کا مجموعی ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس میں گاڑیاں اور آٹو پارٹس دونوں شامل ہیں۔ مینوفیکچررز کے لیے لازمی برآمدی اہداف اور مقامی ویلیو ایڈیشن بڑھانے کا فریم ورک بھی تجویز کیا گیا ہے۔ اسی دوران سی بی یو اور سی کے ڈی ٹیرف کو پالیسی مدت کے اختتام تک تقریباً 15 فیصد کی سطح تک لانے کی سمت دی گئی ہے۔
صنعتی حلقوں میں اس پالیسی کے اثرات پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ صارفین کے لیے کم قیمت گاڑیوں کا امکان مثبت سمجھا جا رہا ہے، جبکہ مقامی پرزہ سازوں کو خدشہ ہے کہ تیز ٹیرف کمی اور مکمل تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد میں اضافہ مقامی صنعت پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ چونکہ پالیسی ابھی مسودہ اور منظوری کے مراحل میں ہے، اس لیے ٹیکس شرحوں، ٹیرف اور اہداف کو حتمی نافذ شدہ پالیسی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

