اسلام آباد: عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اگر طویل یا زیادہ شدید ہوا تو پاکستان کے قلیل مدتی معاشی منظرنامے پر نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے، کیونکہ ملک درآمدی تیل اور گیس پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔ عالمی بینک نے اپنی رپورٹ ’پاکستان ڈیولپمنٹ اپڈیٹ: اٹیننگ اسکیپ ویلوسٹی‘ میں علاقائی کشیدگی کو قریب مدت کے اہم ترین معاشی خطرات میں شمار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 میں پٹرولیم اور گیس مصنوعات پاکستان کی مجموعی درآمدات کا تقریباً ایک چوتھائی اور مجموعی قومی پیداوار کے 3.7 فیصد کے برابر تھیں۔ ان توانائی درآمدات میں خلیج تعاون کونسل کے ممالک کا حصہ تقریباً 80 فیصد بتایا گیا ہے، جس کے باعث خطے میں پیداوار، شپنگ یا رسد میں رکاوٹ پاکستان کے درآمدی اخراجات پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران پاکستان کے پٹرولیم درآمدی گروپ میں سالانہ بنیاد پر 9.2 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ خام تیل کے درآمدی بل میں اسی عرصے میں 46.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلند عالمی توانائی قیمتیں جاری رہنے کی صورت میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ وسیع ہو سکتا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

بینک نے یہ بھی کہا کہ تجارتی راستوں میں رکاوٹ اور برآمدی طلب میں کمی معاشی سرگرمی کو متاثر کر سکتی ہے، جبکہ مہنگی توانائی اور دیگر پیداواری لاگت مہنگائی بڑھا کر گھرانوں کی قوت خرید کو کم کر سکتی ہے۔ یہ نتائج خطرے کے منظرنامے ہیں اور ان کا انحصار تنازع کی مدت، شدت، عالمی توانائی قیمتوں اور پاکستان کے پالیسی ردعمل پر ہوگا۔

رپورٹ میں موسمیاتی خطرے کے طور پر ال نینو کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کی بنیادی پیش گوئی کے مطابق مالی سال 2027 میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.8 فیصد رہ سکتی ہے، تاہم اگر شدید موسمی حالات کے باعث فصلوں کی پیداوار میں صفر نمو رہے تو مجموعی معاشی نمو 0.2 فیصد پوائنٹ کم ہو کر 3.6 فیصد تک آ سکتی ہے۔ یہ 3.6 فیصد کا عدد بنیادی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک مشروط منظرنامہ ہے۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان کے موجودہ بیرونی مالیاتی بفر کسی زرعی جھٹکے کے نتیجے میں اضافی درآمدی ضرورت کو کچھ حد تک جذب کر سکتے ہیں، لیکن اس سے زرمبادلہ کے ذخائر نمایاں طور پر کم ہونے کا خطرہ ہوگا۔ رپورٹ کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ توانائی اور موسمیاتی دونوں بیرونی جھٹکے ایسے وقت میں پالیسی احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں جب پاکستان اپنی معاشی بحالی کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔