اسلام آباد: پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تجارت کو موجودہ تقریباً 1 کروڑ 34 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر آئندہ دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ اتفاق وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان کے دورے پر آئے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کے درمیان مذاکرات میں ہوا، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، سیاحت، غذائی تحفظ، ادویات اور نجی شعبے کے روابط بڑھانے پر توجہ دی گئی۔

دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کے لیے فضائی اور بحری رابطوں کو بہتر بنانے اور مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس جلد بلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ مذاکرات کے بعد دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں 20 مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا۔ ان دستاویزات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، صحت، تعلیم، دفاع، بحری سلامتی، زراعت، ماہی گیری، تجارت، سیاحت اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ مفاہمتی یادداشتیں تعاون کا فریم ورک فراہم کرتی ہیں؛ ان سے متعلق عملی منصوبوں، اخراجات اور نتائج کا انحصار بعد کی عمل درآمدی کارروائیوں پر ہوگا۔

ادویات کے شعبے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اور مالدیپ فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کے درمیان تعاون کی دستاویز پر دستخط ہوئے۔ طبی عملے کی بھرتی اور صحت کے شعبے میں تعاون بھی معاہدوں کا حصہ ہے۔ تجارت کے لیے مالدیپ کی اسٹیٹ ٹریڈنگ آرگنائزیشن اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے درمیان زرعی اجناس، خوراک اور دیگر مصنوعات کے تبادلے کے لیے ادارہ جاتی تعاون طے پایا۔

تعلیم اور افرادی قوت کے شعبے میں تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت، اعلیٰ تعلیم، ہنر، نوجوانوں، کھیل، پولیس و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور سول سروس اداروں کے روابط شامل کیے گئے۔ وزیراعظم نے مالدیپ کے طلبہ کے لیے سالانہ 20 اضافی انڈرگریجویٹ وظائف کا بھی اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے براہ راست فضائی رابطے اور سیاحت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جو تجارتی ہدف حاصل کرنے میں بھی اہم ہوسکتا ہے۔

ماحولیاتی تعاون کے تحت پاکستان نے صدر معیزو کے پانچ ملین درختوں کے اقدام کی معاونت کے لیے اگلے 12 ماہ میں ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف اقسام کے ایک لاکھ بیج فراہم کرنے کا اعلان کیا، جو موسمی دستیابی سے مشروط ہوگا۔ پاکستانی ماہرین مالدیپ میں نرسریوں کے قیام میں بھی مدد دیں گے، جس سے تین برس میں دس لاکھ پودوں کی پیداوار کا ہدف رکھا گیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امن، مکالمے، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی حمایت دہرائی۔ صدر معیزو کا یہ دورہ 11 برس بعد کسی مالدیپی صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے اور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہوا۔ 20 کروڑ ڈالر کا تجارتی ہدف ایک پالیسی عزم ہے؛ اس کی کامیابی عملی تجارتی سہولت، کاروباری روابط، نقل و حمل اور دستخط شدہ تعاون کے بروقت نفاذ پر منحصر ہوگی۔