کراچی: پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25.53 فیصد کم ہوگئیں، جبکہ ادویات ساز صنعت نے افغانستان کے ساتھ تجارت میں تعطل کو اس کمی کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ ڈان کی 22 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار میں پہلی سہ ماہی کی برآمدی آمدن 7 کروڑ 33 لاکھ ایک ہزار ڈالر رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 9 کروڑ 84 لاکھ 28 ہزار ڈالر تھی۔
برآمدی مقدار میں کمی اس سے بھی زیادہ رہی۔ جولائی سے ستمبر کے عرصے میں فارما مصنوعات کی برآمدی مقدار 23 ہزار 924 ٹن سے گھٹ کر 16 ہزار 410 ٹن ہوگئی، یعنی 31.40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقدار میں کمی مالی قدر سے زیادہ تیز تھی۔ اوسط برآمدی قدر فی ٹن میں اس عرصے کے دوران اضافہ ہوا، تاہم یہ تبدیلی مصنوعات کے مجموعی mix میں فرق کی عکاسی بھی کرسکتی ہے اور اسے لازماً ادویات کی قیمتوں میں یکساں اضافے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔
پورے مالی سال 2025-26 میں بھی فارما برآمدات دباؤ میں رہی تھیں۔ سرکاری اعداد کے مطابق برآمدی آمدن 45 کروڑ 74 لاکھ 56 ہزار ڈالر سے 30.26 فیصد کم ہو کر 31 کروڑ 90 لاکھ 12 ہزار ڈالر رہ گئی تھی، جبکہ مقدار 26.14 فیصد گھٹ کر 83 ہزار 104 ٹن ہوئی۔ اس کے برعکس سرجیکل سامان اور طبی آلات، جو ان فارما اعداد میں شامل نہیں، رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 8.8 فیصد بڑھ کر 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچے۔
افغانستان پاکستانی ادویات کے لیے ایک اہم برآمدی منڈی رہا ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاکستان فارما پورٹل پر دستیاب PRAL ڈیٹا کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان نے افغانستان کو تقریباً 15 کروڑ 56 لاکھ 80 ہزار ڈالر کی ادویات برآمد کیں، جو اس سال کی مجموعی فارما برآمدات کا تقریباً 34.1 فیصد بنتا تھا۔ اس لیے سرحد پار تجارت میں رکاوٹ کا اثر صنعت کے لیے نمایاں ہوسکتا ہے۔
سابق چیئرمین پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن توقیر الحق نے تجارت کی معطلی کو کمپنیوں اور قومی خزانے کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ صنعت نے معاملہ حکومت کے سامنے اٹھایا ہے۔ یہ صنعت کا موقف ہے؛ برآمدات میں کمی کے تمام اسباب کو صرف ایک عامل سے منسوب نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عالمی طلب، مصنوعات کی ترکیب، قیمتیں اور دوسرے تجارتی عوامل بھی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے متعلقہ حکام سے معاملہ اٹھانے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم صنعت کا کہنا ہے کہ اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
