اسلام آباد: پاکستان کو قطر سے اکتوبر کا دوسرا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کارگو موصول ہوگیا ہے اور اس شپمنٹ سے گیس قومی ترسیلی نظام میں شامل ہونا شروع ہوگئی ہے۔ جیو نیوز نے وزارت توانائی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نئی کھیپ ایسے وقت پہنچی ہے جب حکومت موسم اور علاقائی توانائی کی صورت حال کے باعث گیس کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے طویل مدتی معاہدوں کے تحت سپلائی کو ترجیح دے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق قطر سے آنے والے کارگو کی ری گیسیفیکیشن کے بعد گیس قومی نظام میں داخل کی جا رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ موجودہ بین الاقوامی حالات میں اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی ایل این جی خریدنے کی ضرورت کم سے کم ہو۔ رپورٹ کے مطابق اسپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمت بعض حالات میں 30 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ سکتی ہے، جس سے پاکستان کے درآمدی بل اور صارفین کے لیے توانائی کی لاگت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اپنی گیس کی مقامی پیداوار میں کمی اور موسم سرما میں بڑھتی طلب کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے۔ قطر کے ساتھ طویل مدتی سپلائی معاہدے ملک کی درآمدی گیس کی ضروریات پوری کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی اور عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ نے سپلائی کی سلامتی کو مزید اہم بنا دیا ہے، کیونکہ بحری راستوں یا پیداوار میں خلل قیمتوں کو تیزی سے متاثر کرسکتا ہے۔
وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق حکام موجودہ معاہدوں کے تحت دستیاب کارگوز کے شیڈول اور ملکی طلب میں توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد بجلی گھروں، صنعت اور گھریلو صارفین کے لیے گیس کی دستیابی بہتر رکھنا اور غیر معمولی مہنگی اسپاٹ خریداری سے سرکاری مالیات پر پڑنے والے بوجھ کو محدود کرنا ہے۔
نئے کارگو کی آمد فوری طور پر پورے ملک میں گیس کی قلت ختم ہونے کی ضمانت نہیں ہے، کیونکہ فراہمی کا انحصار مجموعی طلب، مقامی پیداوار، پائپ لائن نظام اور دیگر درآمدی کھیپوں پر بھی رہتا ہے۔ تاہم اکتوبر میں دوسری قطری شپمنٹ کی بروقت وصولی حکومت کے لیے موجودہ سپلائی پلان پر عمل درآمد میں اہم پیش رفت ہے۔ آئندہ مہینوں میں درآمدی کارگوز کی دستیابی اور عالمی قیمتیں پاکستان کے موسم سرما کے توانائی انتظام میں مرکزی کردار ادا کریں گی۔
