کراچی: حبیب بینک لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ کے مالی نتائج میں 115 ارب روپے قبل از ٹیکس منافع اور 54.1 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا ہے۔ بزنس ریکارڈر میں شائع کمپنی کے بیان کے مطابق تیسری سہ ماہی کا قبل از ٹیکس منافع 41.9 ارب روپے رہا، جسے بینک نے اپنی ریکارڈ سہ ماہی کارکردگی قرار دیا۔ نو ماہ کے لیے فی حصص آمدن 36.84 روپے رپورٹ کی گئی۔
مالی نتائج کے ساتھ بینک نے تیسری سہ ماہی کے لیے 6 روپے فی حصص عبوری نقد منافع کا اعلان بھی کیا۔ یہ اس عبوری نقد منافع کے علاوہ ہے جو پہلے 12 روپے فی حصص کی شرح سے ادا کیا جا چکا ہے۔ منافع کی تقسیم کمپنی کے رپورٹ کردہ نتائج اور متعلقہ کارپوریٹ منظوریوں کے تحت ہے۔
بینک کے مطابق اس کی مجموعی بیلنس شیٹ 16 فیصد بڑھ کر 8.9 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی، جبکہ مجموعی ڈپازٹس 5.9 ٹریلین روپے رہے۔ ملکی ڈپازٹس 5.1 ٹریلین روپے تک پہنچے اور موجودہ کھاتوں کے تناسب میں بھی بہتری رپورٹ کی گئی۔ دسمبر 2025 میں ملکی current-account mix 37.6 فیصد تھا جو ستمبر 2026 میں 40.2 فیصد بتایا گیا۔
قرضوں کے شعبے میں مجموعی advances بڑھ کر 2.2 ٹریلین روپے ہوگئے۔ صارفین کو قرض دینے کا پورٹ فولیو 199 ارب روپے تک پہنچا، جبکہ زرعی فنانسنگ 119 ارب روپے سے تجاوز کرگئی۔ بینک نے نو ماہ میں 210 ارب روپے خالص سودی آمدن اور 73 ارب روپے non-fund income رپورٹ کی، جس میں فیس، کمیشن اور ٹریژری سرگرمیوں کی شراکت شامل رہی۔ مجموعی آمدن 283 ارب روپے بتائی گئی۔
ایچ بی ایل کے صدر و چیف ایگزیکٹو محمد ناصر سلیم نے نتائج کو کاروباری شعبوں میں رفتار، متنوع آمدن، ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور لاگت کے نظم سے منسلک کیا۔ یہ تشریح بینک انتظامیہ کا موقف ہے۔ رپورٹ کے مطابق انتظامی اخراجات میں 6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ Tier-I capital adequacy ratio 12.75 فیصد اور مجموعی CAR 16.09 فیصد رہا۔
بینک نے ڈیجیٹل اور بنیادی بینکاری نظام کی تبدیلی، ایس ایم ای اور تجارتی خدمات، برآمدی کریڈٹ انشورنس اور اسلامی بینکاری سمیت متعدد منصوبوں پر پیش رفت بھی رپورٹ کی۔ ان اقدامات کے مستقبل کے مالی اثرات کا تعین آنے والی سہ ماہیوں کے نتائج سے ہوگا۔ موجودہ اعداد 30 ستمبر تک کے نو ماہ کی کمپنی کی رپورٹ کردہ مالی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں اور انہیں پورے سال 2026 کے حتمی نتائج نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
