اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ قائم کرنے کے لیے فوری فزیبلٹی تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ پاکستان مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مالے سے اسلام آباد یا کراچی کے لیے براہ راست پروازیں نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان کاروبار، سیاحت اور عوامی روابط کی صلاحیت پوری طرح استعمال نہیں ہو رہی۔

وزیراعظم نے بتایا کہ سول ایوی ایشن کے متعلقہ حکام کو پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز یا کسی دوسری پاکستانی ایئرلائن کے ذریعے ممکنہ روٹ کا جائزہ لینے اور عملی راستہ تجویز کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے مالدیپ کے وفد کو پاکستان مدعو کرکے مشترکہ منصوبہ تیار کرنے کی بھی بات کی۔ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے فورم میں کہا کہ ان کی قومی ایئرلائن مالدیپین مالے اور کراچی کے درمیان براہ راست فضائی رابطہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

شہباز شریف نے سمندری رابطوں کو بھی تجارت کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی یا گوادر سے مالے تک قابل اعتماد براہ راست شپنگ شیڈول کے بغیر دوطرفہ تجارتی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستانی حکام اور کاروباری شخصیات پر مشتمل وفد جلد مالدیپ بھیجا جائے گا تاکہ تجارتی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر عملی پیش رفت کی جا سکے۔

دونوں ممالک نے موجودہ دوطرفہ تجارت، جسے وزیراعظم نے تقریباً 13 ملین ڈالر بتایا، کو آئندہ دو سال میں 200 ملین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ صدر معیزو نے خوراک کی فراہمی، کولڈ چین، جدید فوڈ پروسیسنگ، تعمیرات، طبی سامان، قابل تجدید توانائی، اسلامی مالیات، سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو تعاون کے ممکنہ شعبوں کے طور پر اجاگر کیا۔

مالدیپ کے صدر کا پاکستان کا یہ دورہ 11 سال بعد کسی مالدیپی سربراہ مملکت کا پہلا دورہ ہے اور دونوں ممالک سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کی مناسبت بھی منا رہے ہیں۔ براہ راست پروازوں کا اعلان فی الحال ہدایات اور منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہے؛ روٹ، ایئرلائن، فریکوئنسی اور آغاز کی حتمی تاریخ متعلقہ اداروں کی فزیبلٹی اور بعد کے فیصلوں سے طے ہوگی۔