اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آٹوموٹیو انڈسٹری ڈویلپمنٹ پالیسی 2026-31 کی اصولی منظوری دے دی ہے، جس میں صنعت کو دی جانے والی مراعات کو برآمدی کارکردگی، مقامی پرزہ سازی اور ملک کے اندر ویلیو ایڈیشن سے زیادہ واضح طور پر جوڑنے کی تجویز شامل ہے۔ نئی پالیسی سابق فریم ورک کی جگہ لے گی جو 30 جون 2026 کو ختم ہو چکا ہے، جبکہ اسے نیو انرجی وہیکل پالیسی 2025-30 کے ساتھ نافذ کرنے کا منصوبہ ہے۔
دستیاب پالیسی تفصیلات کے مطابق حکومت اگلے پانچ برس میں مقامی سی کے ڈی اسمبلی کے ذریعے مجموعی طور پر 17.7 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت اور گاڑیوں و آٹو پارٹس کی 4.586 ارب ڈالر برآمدات کا ہدف رکھتی ہے۔ فریم ورک میں تقریباً 25 لاکھ ملازمتوں کے تحفظ اور 21.11 ارب روپے کے خالص مالیاتی سرپلس کا تخمینہ بھی شامل ہے۔ یہ اعداد پالیسی کے اہداف اور تخمینے ہیں، حاصل شدہ نتائج نہیں۔
نئے نظام میں کسٹمز ڈیوٹی کے لیے صفر، 5، 10 اور 15 فیصد پر مشتمل نسبتاً سادہ چار سطحی ڈھانچے کی تجویز ہے۔ پالیسی کے مطابق 2030 تک وزنی اوسط درآمدی ٹیرف 15.7 فیصد سے کم کر کے 5.99 فیصد تک لانے کا ہدف ہے۔ مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر ڈیوٹیز بھی مالی سال 2030-31 تک مرحلہ وار کم کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ریگولیٹری اور اضافی کسٹمز ڈیوٹیز ختم کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
نیو انرجی وہیکلز کے لیے پالیسی میں 2030 تک مجموعی گاڑیوں میں 30 فیصد حصہ حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ سبز گاڑیوں کی مراعات کو عمومی سیلز ٹیکس میں چھوٹ کے بجائے پاکستان ایکسیلیریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام کے تحت براہ راست سبسڈی سے جوڑنے کی تجویز ہے۔ اس پروگرام کے لیے 100.36 ارب روپے کا حجم بتایا گیا ہے، جسے روایتی انٹرنل کمبسشن انجن گاڑیوں پر ایک سے تین فیصد لیوی کے ذریعے مالی مدد دینے کا منصوبہ ہے۔
پالیسی میں تین ہزار عوامی چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے، اسٹیٹ بینک کی گرین آٹو فنانسنگ میں قرض کی حد ایک کروڑ روپے تک بڑھانے اور ادائیگی کی مدت سات سال تک رکھنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ ای بائیکس، تین پہیوں والی گاڑیوں اور تجارتی برقی فلیٹس کے لیے مختلف سطحوں کی براہ راست سبسڈی تجویز کی گئی ہے۔
مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ ایک مقداری منیمم ڈومیسٹک ویلیو ایڈیشن نظام نافذ کرے گا۔ مالی سال 2030-31 تک مسافر گاڑیوں کے لیے 40 فیصد، لائٹ کمرشل گاڑیوں کے لیے 45 فیصد، ٹریکٹروں کے لیے 80 فیصد اور موٹر سائیکل و رکشہ کے لیے 90 فیصد مقامی ویلیو ایڈیشن کے اہداف رکھے گئے ہیں۔ رعایتی سی کے ڈی ڈیوٹیز تک رسائی کو برآمدی اہداف سے بھی مشروط کرنے کا منصوبہ ہے۔
وزیراعظم کی اصولی منظوری کے بعد پالیسی کو اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا جانا ہے اور حتمی منظوری کے عمل میں آئی ایم ایف کے جائزوں کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اس لیے موجودہ فریم ورک کو حتمی طور پر نافذ شدہ تمام قواعد کے بجائے منظور شدہ پالیسی سمت اور زیر تکمیل منظوری عمل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔




