اسلام آباد: وفاقی حکومت کے نئے روزانہ پیٹرولیم قیمت نظام کے تحت 11 ستمبر کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 3 روپے 5 پیسے اور 5 روپے 37 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمت کے مطابق پیٹرول 370 روپے 80 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 398 روپے 4 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔

پیٹرول کی سابق قیمت 367 روپے 75 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی 392 روپے 67 پیسے فی لیٹر تھی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتیں 11 ستمبر کے لیے مؤثر ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ بڑھتی کشیدگی اور عالمی تیل منڈی میں تیز اتار چڑھاؤ کے تناظر میں حکومت نے حال ہی میں قیمتوں کے جائزے کا دورانیہ مزید مختصر کرتے ہوئے روزانہ بنیادوں پر منتقل کیا ہے۔

نئے فریم ورک میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی گزشتہ سات دن کی بین الاقوامی مارکیٹ قیمتوں کی اوسط کی بنیاد پر روزانہ ایکس ڈپو نرخ مقرر کرے گی۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق سات روزہ اوسط استعمال کرنے کا مقصد عالمی منڈی میں کسی ایک دن کی غیر معمولی حرکت کے اثر کو نسبتاً متوازن کرنا ہے۔ اوگرا نے قیمتوں کی شفافیت کے لیے روزانہ پیٹرولیم نرخ اپنی ویب سائٹ پر جاری کرنا بھی شروع کیے ہیں۔

کابینہ سے منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق اوگرا کو روزانہ قیمت جاری کرنے کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت سے ہر بار پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی۔ جمعہ کو جاری ہونے والی قیمت ہفتہ اور اتوار کو برقرار رہے گی۔ پیٹرولیم لیوی کی حد وفاقی کابینہ کی منظور شدہ سطح سے زیادہ نہیں ہو سکے گی، جبکہ لیوی کی شرح میں تبدیلی کے لیے وزارت خزانہ کی منظوری درکار ہوگی۔

حکومت نے مشرق وسطیٰ کے تنازع کے آغاز کے بعد پہلے پندرہ روزہ نظام سے ہفتہ وار جائزے کی طرف منتقلی کی تھی۔ اب عالمی خام تیل، آبنائے ہرمز کی جہاز رانی اور علاقائی سکیورٹی میں مسلسل تبدیلی کے باعث روزانہ نظام اختیار کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بین الاقوامی قیمتوں میں تیز کمی یا اضافہ نسبتاً جلد مقامی نرخوں میں منتقل ہو سکتا ہے، اگرچہ ٹیکس، لیوی، فریٹ اور دیگر عناصر بھی حتمی قیمت کا حصہ رہیں گے۔

نئے مالی سال کے درآمدی انتظامات میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد پاکستان اسٹیٹ آئل کے ذریعے جبکہ پیٹرول کی درآمد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو ان کے مارکیٹ شیئر کے مطابق کرنے کی اجازت دینے کا فریم ورک بھی شامل ہے۔ موجودہ اضافہ عالمی تیل کی بلند قیمتوں کے فوری اثرات کی عکاسی کرتا ہے اور آئندہ روزانہ اعلانات میں نرخ دوبارہ تبدیل ہو سکتے ہیں۔