کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو کاروبار کے دوران نمایاں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جب عالمی تیل کی بڑھتی قیمتوں اور ملکی ایندھن کے نرخوں میں اضافے نے مہنگائی اور مستقبل کی شرح سود سے متعلق خدشات کو بڑھایا۔ KSE-100 انڈیکس دوران کاروبار 166,141.17 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گیا، جو گزشتہ بندش سے 2,723.87 پوائنٹس یا تقریباً 1.61 فیصد کم تھی۔
انڈیکس نے سیشن کے دوران 167,748.91 پوائنٹس کی بلند سطح بھی دیکھی، تاہم یہ بھی گزشتہ بندش 168,865.04 سے 1,116.13 پوائنٹس نیچے تھی۔ اس اتار چڑھاؤ سے ظاہر ہوا کہ مارکیٹ میں خریدار موجود تھے لیکن مجموعی رجحان پر توانائی کی قیمتوں اور میکرو اکنامک خدشات کا دباؤ غالب رہا۔
مارکیٹ ماہرین نے تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں اضافے کو اہم وجہ قرار دیا، جو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور علاقائی رسد کے خدشات سے متاثر ہو رہی ہیں۔ پاکستان درآمدی توانائی پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمتوں میں اضافہ مقامی ایندھن، درآمدی بل اور مہنگائی کی توقعات پر تیزی سے اثر ڈال سکتا ہے۔
اسماعیل اقبال سکیورٹیز کے چیف ایگزیکٹو احفاز مصطفی کے مطابق سرمایہ کار بڑھتے عالمی تیل اور مقامی پیٹرولیم قیمتوں کے ممکنہ معاشی اثرات کو دیکھ رہے ہیں۔ مارکیٹ میں یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ اگر مہنگائی کا دباؤ زیادہ برقرار رہا تو شرح سود کے مستقبل کے راستے پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ مارکیٹ کی توقع ہے، اسٹیٹ بینک کی جانب سے کسی نئی شرح سود تبدیلی کا اعلان نہیں۔
اسٹاک مارکیٹ کے روزانہ اتار چڑھاؤ میں عالمی منڈیوں، روپے کی قدر، کمپنیوں کے نتائج، سیاسی حالات اور مقامی لیکویڈیٹی سمیت کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک دن کی کمی کو طویل مدتی رجحان کا حتمی اشارہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
جمعہ کے سیشن میں توجہ خاص طور پر توانائی کی لاگت اور اس کے مہنگائی پر ممکنہ اثرات پر رہی۔ مارکیٹ کی حتمی بندش اور شعبہ وار کارکردگی سے یہ زیادہ واضح ہوگا کہ فروخت کا دباؤ کس حد تک برقرار رہا اور کن شعبوں نے انڈیکس کی حرکت میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا۔




